ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

ہمیں پان کی دکان چلانے والے وکیل پیدا نہیں کرنے،ایسے این ٹی ایس کا کیا فائدہ جہاں نقل کر کے امتحان دیا جاتا ہو،چیف جسٹس

datetime 20  جنوری‬‮  2018 |

لاہور(آئی این پی ) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے پنجاب یونیورسٹی میں مستقل وائس چانسلر کی تعیناتی نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے چیف سیکرٹری پنجاب کوطلب اور یونیورسٹیز کے وائس چانسلرز کو لا کالجز کی انسپیکشن اور ان کی صورتحال سے متعلقبیان حلفی جمع کروانے کا حکم دیدیا، سماعت کے دوران چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ہمیں پان کی دکان چلانے والے وکیل پیدا نہیں کرنے۔

ایسے این ٹی ایس کاکیا فائدہ جہاں نقل کر کے امتحان دیا جاتا ہو،،ہر یونیورسٹی نے اپنا نظام تعلیم بنا لیا ہے، جس کا جو جی چاہتا ہے وہ کر رہا ہے،سناہے کہ ڈاکٹر عاصم باہر جارہے ہیں،ڈاکٹر عاصم کے وکیل کو فوری بلائیں ورنہ ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ(ای سی ایل)میں ڈال دیں گے۔ ہفتہ کو سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں غیر معیاری لا کالجز اور نجی میڈیکل کالجز میں اضافی فیسوں کے خلاف مقدمات کی الگ الگ سماعتیں ہوئیں، جس میں ملک بھر کی یونیورسٹیز کے وائس چانسلرز عدالت میں پیش ہوئے، سماعت چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں دورکنی بینچ نے کی۔چیف جسٹس نے پنجاب یونیورسٹی میں مستقل وائس چانسلر کی تعیناتی نہ ہونے پر سخت اظہار برہمی کرتے ہوئے چیف سیکرٹری پنجاب کو فوری طلب کرلیا، اس کے علاوہ یونیورسٹیز کے وائس چانسلرز کو لا کالجز کی انسپیکشن اورکالجز کی صورتحال سے متعلق وائس چانسلرز کو بیان حلفی جمع کروانے کا حکم دیدیا۔چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ کیوں نہ وکالت کے لیے انٹری ٹیسٹ ختم کردیں، اگر نقل کرکے ہی وکیل بنناہے تو ایسے سسٹم کو ہی ختم کردیں۔ ایسے وکیل پیدا نہیں کرنے جو صبح پان کی دوکان چلاتے ہوں اور بعد میں ڈگری حاصل کر لیں۔ ادارے قائم رہنے چاہیں شخصیات آتی جاتی رہتی ہیں۔

افسوس ہم اپنے ادارے مضبوط نہیں کر رہے، ایسے این ٹی ایس کا کیا فائدہ جہاں نقل کر کے امتحان دیا جاتا ہو۔ جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا سمجھ نہیں آتی اتنی پرائیوٹ یونیورسٹیاں کھل کیسے گئیں۔سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے تمام سرکاری یونیورسٹیز کو نئے الحاق کرنے اور ملک بھر کی ماتحت عدالتوں اور ہائی کورٹس کو لاکالجز کے کیسز پر حکم امتناعی جاری کرنے سے روک دیا۔

اس کے علاوہ چیف جسٹسنے یونیورسٹیز سے الحاق کیے گئے لا کالجز سے متعلق رپورٹ طلب کرتے ہوئے سینیٹر قانون دان حامد خان کی سربراہی میں کمیٹی قائم کردی۔دوسری جانب نجی میڈیکل کالج میں اضافی فیسوں کے خلاف ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان نے ڈاکٹر عاصم کی عدم پیشی پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر عاصم کو بلایا تھا لیکن سننے میں آیا ہے کہ وہ باہر جارہے ہیں، ڈاکٹر عاصم کے وکیل کو فوری بلائیں ورنہ ان کانام ایگزٹ کنٹرول لسٹ(ای سی ایل)میں ڈال دیں گے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا اندھا بانٹے ریوڑیاں اپنے پاس ہی آئیں، ہر یونیورسٹی نے اپنا نظام تعلیم بنا لیا ہے، جس کا جو جی چاہتا ہے وہ کر رہا ہے، سمجھ نہیں آتی کہ اتنی زیادہ پرائیویٹ یونیورسٹیاں کیسے بن گئیں۔چیف جسٹس نیعدالت میں میڈیکل کالجز کے پرنسپلز کے پیش نہ ہونے پر برہمی کا اظہارکرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ پیش نہ ہونے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، میڈیکل کالجز کے افسران کو بتایا جائے کہ وہ ملک میں واپس آ جائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…