جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

نقیب اللہ محسود کے بارے میں 10 سال پہلے پاک فوج نے کس بات کی تصدیق کی تھی؟ ایسی خبر آ گئی کہ سب کچھ سامنے آ گیا

datetime 20  جنوری‬‮  2018 |

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) نقیب اللہ محسود جو کہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہو گیا ہے اس کے بے قصور ہونے کا ایک ثبوت مل گیا ہے، تفصیلات کے مطابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کی سربراہی میں کیے جانے والے آپریشن میں ہلاک ہونے والے نقیب اللہ محسود جو کہ قبائلی

نوجوان کے بارے میں مزید تفصیلات منظر عام پر آئی ہیں اس نوجوان نقیب اللہ کے پاس آئی ڈی پی کا کارڈ موجود ہے جو کہ اس کی بے گناہی کا ثبوت ہے۔ یہ کارڈ قبائلی علاقے سے نقل مکانی کرنے والے افراد کو دیے گئے ہیں، جس وقت قبائلی علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف جنگ کا آغاز کیا تو اس وقت ان قبائلیوں کو آئی ڈی پی کارڈ جاری کیے گئے تھے، اس وقت کسی بھی شخص کو بغیر آئی ڈی پی کارڈ حاصل کیے کہیں جانے کی اجازت نہیں تھی اور نہ ہی یہ اجازت اب ہے اور یہ آئی ڈی پی کارڈ پاک فوج کی طرف سے کسی بھی شخص کو اس وقت جاری کیا جاتا ہے جب مکمل تحقیق کے بعد اس کلیئر قرار دیا جاتا ہے لیکن کوئی شخص مشکوک ہو تو اسے یہ کارڈ ہرگز جاری نہیں کیا جاتا اور اسے گرفتار کرکے مزید تحقیق کی جاتی ہے، دس سال پہلے نقیب اللہ نے وزیرستان سے کراچی منتقل ہونے کے لیے کارڈ حاصل کیا تھا۔ پاک آرمی نے تفتیش کے بعدہی نقیب اللہ محسود کو آئی ڈی پی کارڈ جاری کیا تھا اور اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ نقیب اللہ محسود مشکوک کردار کا حامل نہیں تھا۔ نقیب اللہ محسود جو کہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہو گیا ہے اس کے بے قصور ہونے کا ایک ثبوت مل گیا ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…