بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

سپریم کورٹ نے نجی بنکوں کو ملازمین کی پنشن کے معاملات طے کرنے کے لیے دو ہفتوں کی مہلت دیدی

datetime 18  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد (آن لائن ) سپریم کورٹ نے نجی بنکوں کو ملازمین کی پنشن کے معاملات طے کرنے کے لیے دو ہفتوں کی مہلت دیتے ہوئے کیس کی سماعت پندرہ دنوں کے لیے ملتوی کردی ہے ،دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ گود سے لحد تک شہریوں کے حقوق کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے، نجی بنکوں نے پنشنرز کے لیے خود کوئی فیصلہ کرنا ہے تو کر لیں ، عدالت نے فیصلہ دیا تو پھر بینک کے

دیوالیہ کا عذر پیش نہ کرنا جمعرات کو سپریم کورٹ میں بنک ملازمین کی پنشن سے متعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی ،سپریم کورٹ میں بینک ملازمین کی پنشن کیس کی سماعت کے دوران صدر الائیڈ بینک عدالت میں پیش ہوئے تو چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ عدالتی نوٹس پر گزشتہ روز پیش کیوں نہیں ہوئے، آپ کو دولاکھ جرمانہ کیا تھا، کیا آپ نے جرمانہ ادا کر دیاہے بنک کے صدر نے کہا کہ جرمانہ میری جیب میں ہے ادا کر دیتا ہوں،چیف جسٹس نے کہا کہ فاطمید فاونڈئشن کوجرمانہ چندے میں دے دیں، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ کی تنخواہ کتنی ہے،جواب دیا کہ میری تنخواہ ساڑھے بائیس لاکھ ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ گھر گاڑی اور مراعات اس سے الگ ہوں گی، پنشنرز کے لیے بھی کچھ کریں، پنشنرز کے لیے خود فیصلہ لینا ہے تو لیں، عدالت نے فیصلہ دیا تو پھر بینک کے دیوالیہ کا عذر پیش نہ کرنا چیف جسٹس نے کہا کہ نجی بینکوں کے وکلاء بتا دیں کہ بنک مالکان معاملے پر کیا فیصلہ کرنا چاہتے ہیں، ہمیں ابھی بتا دیں یاپندرہ دنوں بعد بتا دیں، بینک مالکان اپنا موقف دے دیں، اس کے باوجود کچھ قانونی نکات پر فیصلہ ضرور لکھیں گے، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ پنشنرز کے مطالبات اور بینک مالکان کی پیشکش میں توازن ہونا چاہیے، یہ جوڈیشیل مدبری نہیں ہوگی اگر جہاز ہی ڈوب جائے ، چیف جسٹس نے کہا کہ ہم فیصلہ دے کر اطلاق کر دیں تو مالکان پر

مالی بوجھ پڑے گا، وکیل نے کہا کہ عدالت پنشن منجمند کرنے اور بڑھانے کے معاملے کو بھی دیکھے ، چیف جسٹس نے کہا پنشنرز کے لیے کسی نے کسر نہیں چھوڑی، قانون کا اطلاق کیسے ہوگا نہیں معلوم، تمام وکلا نے کیس بہترین انداز میں پیش کیا ، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ

وفاقی حکومت کے ذمے واجبات بنک خریدنے والوں کے ذمے تھے چیف جسٹس نے کہا کہ گود سے لحد تک شہریوں کے حقوق کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے، اگر مالکان نے پنشنرز سے معاملات طے کرنے ہیں تو پندرہ دن میں کر لیں، مقدمہ دو ہفتے بعد دوبارہ سنیں گے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



8 بجے تک


میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…