جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

اسلامی ملکوں پر سفری پابندیاں لگانے والے امریکہ کو خود عذاب الٰہی کا سامنا،برف بم سے تباہی،2لوگ سردی سے جم کر ہلاک

datetime 18  جنوری‬‮  2018 |

نیویارک (آن لائن) امریکہ نے 6 اسلامی ممالک کی پروازوں پرسفری پابندیاں عائد کر کے بعض فضائی کمپنیو ں کو بحران سے دو چار کرنا چاہا مگر اب قدرت نے اسی امریکہ کو’’برفانی بموں‘‘ کے ذریعے پریشان کرنا شروع کر دیا ہے اب تک امریکہ کی ہزاروں فلائٹیں اسی برف باری کی وجہ سے منسوخ کی جا چکی ہیں جو ان دنوں 18۔18 انچ برفانی بم کی لپیٹ میں ہے۔ نیو انگلینڈ کے مشرقی حصے میں 1انچ سے لے کر 18 انچ تک فی گھنٹہ

برف باری ہوئی۔ جس سے پورے علاقے نے برف کی چادر اوڑھ لی۔ یہ ’’برفانی بم‘‘ طوفانوں اوربارشوں سے کہیں خطرناک ثابت ہوا۔سردی کی ایک لہر ہے جو لندن سے امریکہ تک پھیلی ہوئی ہے، درجہ حرارت تاریخ میں پہلی مرتبہ اتنا کم نہیں ہوا حتیٰ کہ کچھ دنوں کے لیے سکول کالج تمام تعلیمی ادارے بند کر دئیے گئے تھے اور کار سواروں کو گھروں سے نکلتے وقت احتیاط کرنے کی ہدایت دی گئی۔ امریکی حکومت نے فوری طور پر شیلٹر ہومز کھول دئیے کیونکہ ملک میں بجلی کی بندش سے ہیٹر بند ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا تھا۔ بقول گورنر نیویارک اینجیو کومے امریکہ کو طویل برف باری کا سامنا ہے ۔ نارتھ کیرولینا میں 2 لوگ سردی سے جم کر ہلاک ہوگئے۔ ان کی گاڑی برف کے نیچے دب کر بے بس ہوگئی تھی۔انہوں نے نکلنے کی بہت کوشش کی مگر جان کی بازی ہار گئے۔نارتھ کیرولینا ہائی وے پٹرولنگ فورس کے مطابق اس روز 7 سو حادثات ہوئے۔ برفباری کے دوران مدد کے لیے ہزاروں فون کالیں آئیں۔ نیو جرسی کو بھی اسی قسم کی صورتحال کا سامنا ہے۔ روڈز آئی لینڈ میں بھی 18 انچ یومیہ تک برف باری ہوئی۔ ایک ایک گھنٹے میں مجموعی طور پر تین تین انچ برف پڑی۔ امریکی شہریوں کو موسمیاتی سروس کے ادارے نے مزید خوفزدہ کر دیا ہے جس نے 70

میل فی گھنٹہ کی رفتار سے مزید طوفانوں کے آنے کی بری خبر جاری کی تھی۔ برف باری کے باعث جنوری کے پہلے ہفتے میں بعض ریاستوں میں کم و بیش پانچ پانچ ہزار گھروں اور اداروں کی بجلی بند ہو گئی۔ کو نیکٹیکٹ کے گورنر ڈینن پی بیلے نے فوری طور پر ریاست میں 100ہنگامی مراکز قائم کر دئیے۔34قصبات کے شہری ان مراکز میں کسی بھی ہنگامی صورتحال میں پناہ لے سکتے ہیں۔ سڑکوں کی صفائی کے لیے 334 گاڑیاں اور 250 ٹھیکیدار

دن رات کام کر رہے ہیں۔فلوریڈا میں بھی یہی کیفیت ہے۔ ڈیلا ویئر، ورجینیا، میری لینڈ، نیویارک اور لانگ آئی لینڈ کے بعض حصوں میں بھی برفباری سے زندگی معطل ہو گئی ہے۔ صرف ایک دن میں منسوخ ہو نے والی پروازوں کی تعداد سوا تین ہزار ہے۔ ناسا کے 43 سالہ سائنسدان مارک شو مین برگر نے ورجینیا کو رہنے کے لیے ناقابل قرار دیا۔ اسے گھر کی قریبی دکان سے ناشتہ لانے میں آدھا گھنٹہ لگا۔ امریکی محکمہ موسمیات کے ڈین پیٹرسن کے مطابق نیو انگلینڈ سے مشرقی نیویارک تک واقع امریکی ریاستیں برفباری سے شدید متاثر ہوئیں۔ وہاں درجہ حرارت میں مزید کمی کا اندیشہ ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…