جمعہ‬‮ ، 13 مارچ‬‮ 2026 

پی ٹی وی حملہ کیس سمیت 4 مقدمات میں عمران خان کی ضمانت کی درخواستیں منظور

datetime 2  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد(این این آئی) انسداد دہشت گردی عدالت نے پی ٹی وی حملہ کیس سمیت 4 مقدمات میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی ضمانت کی درخواستیں منظور کرلیں۔ منگل کو اسلام آباد میں انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت کے جج شاہ رخ ارجمند نے پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے خلاف ایس ایس پی تشدد کیس سمیت چار مقدمات کی سماعت کی۔عدالت کے طلب کیے جانے پر عمران خان پانچویں مرتبہ پیش ہوئے اور

وکلا کے دلائل سننے کے بعد فاضل جج نے چیئرمین تحریک انصاف کی ضمانت پر فیصلہ محفوظ کرلیا جو ڈھائی بجے سنایا گیا اور چیئرمین تحریک انصاف کی چاروں کیسز میں ضمانت کی درخواستیں منظور کرلیں۔دوران سماعت پراسیکیوٹر چوہدری شفاقت نے کہا کہ سرکاری ٹی وی پر حملے کی اطلاع عمران خان کو عارف علوی نے دی جس کو انہوں نے سراہا، عمران خان کے موبائل فون کا فارنزک کروانے پر مزید حقائق سامنے آئیں گے۔پراسیکیوٹر نے کہا کہ نادرا نے پی ٹی وی پر حملہ کرنے والے 20 افراد کی نشاندہی کی ہے جن کا تعلق تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک سے ہے۔ پراسیکیوٹر کی جانب سے عمران خان اور ڈاکٹر عارف علوی کے درمیان ہونے والی گفتگو کا ٹیلی فونک ریکارڈ بھی پیش کیا گیا۔اس موقع پر وکیل بابر اعوان نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ ذاتی گفتگو کو کس قانون کے تحت ریکارڈ کیا گیا۔چیئرمین تحریک انصاف کے وکیل نے دلائل میں کہا کہ پی ٹی وی حملے سے عمران خان کا کوئی تعلق نہیں، حکومت صرف عمران خان کا موبائل فون حاصل کرنا چاہتی ہے، حکومت کو لگتا ہے کہ موبائل فون سے کچھ نکل آئے گا۔ضمانت منظور ہونے کے بعد عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو میں عمران خان نے کہا کہ میں لاڈلہ نہیں، سپریم کورٹ نے کہا کہ میں

صادق اور امین ہوں، میں قانون کا لاڈلہ ہوں اور قانون پرعمل کرتا ہوں، مجھ پر مقدمات اس لیے ہیں کہ میں ان کا مقابلہ کررہا ہوں، خورشید شاہ کی طرح ڈبل شاہ بن جاؤں تومیرے کیس بھی ختم ہوجائیں گے لیکن ہمارا مقابلہ مافیاسے ہورہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر نوازشریف کو این آر او دیا گیا تو سپریم کورٹ کورٹ کو کہوں گا کہ جیل کھول دیں سب کو رہا کردیں۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہاکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرپ کو کوئی سمجھ ہی نہیں

ہے، انہیں افغان جنگ اور پاکستان میں دہشت گردی کے نتیجے میں ہونے تباہی کا بھی علم نہیں، ایسا لگتا ہے کہ ٹرمپ کو پاکستان کے دشمنوں نے بریف کیا ہے، اس جنگ سے ہماری معیشت کو 100 ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہوا۔عمران خان نے کہا کہ کسی اور کی جنگ جب پیسے لے کر لڑیں گے تو اس میں ذلت اور تباہی ہی ہے، جب میں نے کہا یہ ہماری جنگ نہیں، مجھے کہا گیا کہ یہ طالبان خان ہے ٗمیں نے کہا کہ اس جنگ میں ہمارا نقصان ہوگا

تو میرا مذاق اڑایا گیا تاہم آج قوم کے سامنے حقائق آگئے ہیں ٗ اس لیے کبھی کسی کی جنگ میں شرکت نہیں کرنی چاہیے۔عمران خان نے کہا کہ نواز شریف کہتے ہیں کہ مجھے اقامے پر نکالا، اقامہ اور ایف زیڈ کمپنی منی لانڈرنگ کا طریقہ تھا، دونوں بھائی سعودی عرب اپنی چوری بچانے اور این آر او لینے کے لیے گئے ہیں تاہم یہ جہاں مرضی چلے جائیں قوم این آر او قبول نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہاکہ یہ اربوں کی چوری کو بچانے کے لیے باہر کی

قوت کو کہہ رہے ہیں ہمیں بچالو، یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستانی قوم بھیڑ بکریاں ہیں جو خاموشی سے یہ سب تسلیم کرلے گی، اگر این آر او کی خوشبو بھی آئی تو قوم باہر نکلے گی اور شاہد خاقان عباسی کی حکومت برداشت نہیں کرسکے گی۔عمران خان نے کہاکہ سپریم کورٹ اس سے پہلے بھی ایک این آر او مسترد کرچکی ہے، اب نواز شریف کو این آر او دیا گیا تو وہ پھر سپریم کورٹ جائیں گے اور عدالت کہیں گے کہ جیلوں میں بیٹھے سارے مجرموں کو چھوڑ دیا جائے۔خیال رہے کہ 13 دسمبر کو ہونے والی گزشتہ سماعت میں ان چاروں مقدمات میں عمران خان کی عبوری ضمانت میں 2 جنوری تک توسیع کی گئی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہبی جنگ(دوسرا حصہ)


بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہبی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…