بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

کبھی ٹیکس چوری نہیں کی ،میری کمپنی سالانہ چالیس سے پچاس کروڑ ٹیکس اداکرتی ہے ، وفاقی مشیر

datetime 31  دسمبر‬‮  2017 |

فیصل آباد(آن لائن)وفاقی مشیر خزانہ و اقتصادی اامور مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ میں نے یا میرے خاندان نے کبھی ٹیکس چوری نہیں کیا میرا زاتی کاروبار ہے اور کمپنی سالانہ چالیس سے پچاس کوڑ روپے حکومت پاکستان کو ٹیکس اداکرتی ہے جبکہ میں خود بھی ایک کروڑ 50لاکھ روپے لگ بھگ سرکاری خزانہ میں ٹیکس جمع کراتا ہوں آن لائن کے مطابق یہ بات انہوں نے گذشتہ روز ایک نجی ٹی وی پروگرام میں بتائی

انہوں نے کہا کہ میرا جو رفنڈ محکمہ انکم ٹیکس کے ذمہ واجب ادا ہے وہ بھی میں نے وصول نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ،وفاقی مشیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے مزید بتایا کہ ملک کی کوئی سیاسی جماعت جن میں تحریک انصاف بھی شامل ہے میرے کاروبار اور ذاتی ٹیکس کی ادائیگی پر نہ صرف اعتراض کرسکتی ہے بلکہ میری طرف سے اجازت ہوگی کہ وہ کسی بھی ملکی اور غیر ملکی فرم کے ذریعے میرا آڈٹ کرا سکتی ہے اور اس کی میں ہر طرح

کی تسلی بھی کرانے کو تیار ہوں وفاقی مشیر خزانہ نے مزید کہا کہ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے اقتدار سنبھالنے کے بعد ملک نے ترقی کا سفر شروع کررکھا تھا مگر ان کی حکومت کے علیحد گی کے بعد معیشت کو دھیچکا لگا جس سے سٹاک مارکیٹ کوبھی کافی نقصان پہنچا مگر ہم کوشش کر رہے ہیں ملک میں کاروبار استحکام پیدا ہوا تاکہ میاں نواز شریف نے گزشتہ انتخابات میں عوام سے جووعدے کئے تھے اسے عملی جامہ پہنا یا جاسکے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…