جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

پیسہ پھینک تماشا دیکھ۔۔ پاکستان کے اہم صوبے میں ڈگریوں کی ’’سیل‘‘ لگ گئی، ڈاکٹر بننے کے شوقین ’’ڈاکٹر‘‘ تو نہ بنے ’’بے وقوف‘‘ بن گئے، حیرت انگیز انکشافات

datetime 29  دسمبر‬‮  2017 |

پشاور (مانیٹرنگ ڈیسک) اب ڈاکٹر بننا بہت ہی آسان ہو گیا ہے، جی ہاں کچھ رقم ادھر ادھر سے اکٹھی کریں اور ڈاکٹر کی ڈگری حاصل کر لیں، تفصیلات کے مطابق پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا میں جعلی ڈگریاں تیار کرنے والا گروہ لوگوں سے لاکھوں روپے بٹور رہا ہے، یہ گروہ

افغانستان کی پژواک میڈیکل یونیورسٹی کی جعلی ڈگریاں بناتا ہے اور ان جعلی ڈگریوں کے عوض خیبرپختونخوا کے عوام سے لاکھوں روپے کما رہا ہے۔ ذرائع کا اس بارے میں کہنا ہے کہ ان ڈگریوں کا کوئی ریکارڈ نہیں ہوتا اور اس وقت ڈگریاں دینے والا شخص بھی غائب ہو چکا ہے، ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا میں کئی ایسے افراد موجود ہیں جنہیں پانچ ماہ کے بعد ڈاکٹری کی دو سالہ ڈگری دی گئی، جس نام کی یونیورسٹی کی ڈگریاں دی جا رہی ہیں اس کا کہیں نام و نشان ہی نہیں ہے۔ ڈاکٹر بننے کے شوقین افراد جو اس نوسرباز کے ہاتھوں لٹ چکے ہیں نے بتایا کہ ہم سے افغانستان لے جانے کا جھانسہ دے کر پیسے لیے گئے لیکن کچھ ماہ بعد ہمیں یہاں پر ہی ڈگریاں دے دی گئیں اور کہا کہ اب آپ لوگ ڈاکٹر بن چکے ہیں، اس گروہ کے ہاتھوں لٹنے والوں نے اس گروہ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ اب ڈاکٹر بننا بہت ہی آسان ہو گیا ہے، جی ہاں کچھ رقم ادھر ادھر سے اکٹھی کریں اور ڈاکٹر کی ڈگری حاصل کر لیں، تفصیلات کے مطابق پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا میں جعلی ڈگریاں تیار کرنے والا گروہ لوگوں سے لاکھوں روپے بٹور رہا ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…