منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

گورنر سردار مہتاب کا ایسا اقدام کہ پروٹوکول کا راگ الاپنے والوں کو کر دیا پریشان

datetime 23  اپریل‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)گورنر خیبر پختونخوا سردار مہتاب احمد خان بدھ کی سہ پہر کسی سکیورٹی اور پروٹوکول کے بغیر اپنے چار سالہ پوتے کے ہمراہ پشاور صدر کی سٹرکوں پر واک کرتے رہے گورنر کو غیر متوقع طور پر اپنے درمیان پانے پر شہریوں نے خوشگوار حیرت کا اظہار کیا جبکہ گورنر نے میڈیا کے سوالات کے جواب میں کہا کہ پاکستان بھر اور خصوصاً پختونخوا اور فاٹا کے عوام بہادری اور دلیری میں بے مثال ہیں جنہوں نے بدترین شور اور بدامنی کا مقابلہ انتہائی جوانمردی سے کیا دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں پاک فوج اور سکیورٹی اداروں کے بہادر افسروں اور جوانوں اور عوام کی قربانیوں کے نتیجہ میں بہت جلد امن قائم ہو گا گورنر بدھ کی سہ پہر اپنے سکیورٹی عملہ اور پولیس حکام کو اطلاع دیئے بغیر فورٹ روڈ پر واقع گورنر ہاو¿س سے نکل آئے اس موقع پر ان کے ذاتی معاون اور چار سالہ پوتا قاسم خان ان کے ہمراہ تھے جاگرز اور ٹریک سوٹ میں ملبوس سردار مہتاب احمد خان فورٹ روڈ سے ایڈورڈز کالج روڈ وہاں سے مال روڈ کے راستہ پشاور صدر پہنچے طویل عرصہ بعد صوبہ خیبر پختونخوا کے آئینی سربراہ اور وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) کے انتظامی سربراہ کا کسی پروٹوکول اور سکیورٹی کے بغیر پشاور صدر کی سڑکوں پر واک کرنے کا یہ پہلا موقع تھا جس نے پشاور صدر کے شہریوں کو خوشگوار حیرت سے دو چار کر دیا یہی وجہ تھی کہ گورنر سردار مہتاب احمد خان جب ایڈورڈز کالج کے قریب پہنچے تو کالج کے عقبی میدان میں کھیلنے والے طلبہ انہیں دیکھ کر باہر آئے اور گورنر سے مصافحہ کیا گورنر نے ان طلبہ کی خیریت دریافت کی اور انہیں پڑھائی پر توجہ دینے کے ساتھ ساتھ غیر نصابی سرگرمیوں اور کھیلوں میں بھی بھرپور انداز سے حصہ لینے کی تلقین کی فورٹ روڈ‘ کالج روڈ اور مال روڈ پر واقع سیکیورٹی فورسز کی ناکہ بندیوں سے گزرتے ہوئے گورنر نے یہاں تعینات جوانوں کے ساتھ مصافحہ کیا اور ان سے علیک سلیک کرتے ہوئے اس کے حوصلوں کو بڑھایا گورنر سردار مہتاب احمد راستہ میں عام شہریوں سے بھی ملے اوران کے ساتھ سلام دعا کی جس میں شہریوں نے انہیں اپنے درمیان پا کر بہت اچھا محسوس کیا۔

30

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…