جمعہ‬‮ ، 13 فروری‬‮ 2026 

اسلام آباد میں کروڑوں روپے کے 110 پلاٹوں کی من پسند افراد میں تقسیم، دو بڑوں میں اختیارات کی جنگ کے بعد حیرت انگیز فیصلہ ہو گیا

datetime 20  دسمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (آن لائن) وفاقی ترقیاتی ادارے سی ڈی اے میں وزیر مملکت طارق فضل چوہدری ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی مرتضیٰ جاوید عباسی اور سی ڈی اے کے اعلیٰ عہدیداروں کے درمیان تین دن کی اختیارات کی جنگ کے بعد منگل کو سیز فائر ہوگیا ہے اور فریقوں کے درمیان ایک دوسرے کے مفادات کا تحفظ کرنے کیلئے عہد و پیمان ہو گئے ہیں۔تفصیلات کے مطابق سی ڈی اے میں کروڑوں روپے مالیت کے 110پلاٹ من پسند افراد کو نوازنے پر

شروع ہونیوالی اختیارات کی جنگ میں جمعہ کو ڈائریکٹر لینڈ عرفان اللہ اور ڈپٹی ڈائریکٹر پسند محمد فرحان کو معطل کرکے چیئرمین سی ڈی اے نے ممبر ایڈمن یاسر پیرزادہ کی سربراہی میں تین رکنی کمیٹی تشکیل دیدی تھی اس کمیٹی کے باقی دو ممبران میں ڈی جی لاء نجمہ اظہر اور ڈپٹی ڈائریکٹر سیکورٹی ڈویژنل عبدالمنان شا مل تھے۔ اس کمیٹی کو اختیارات دیا گیا تھا کہ وہ 110 پلاٹوں کی الاٹمنٹ بارے تحقیقات مکمل کرے۔ کیونکہ ڈائریکٹر لینڈ عرفان اللہ اور ڈپٹی ڈائریکٹر لینڈ محمد فرحان پر الزام تھا کہ انہوں نے 5 پلاٹ مارگلہ ٹاؤن اور 5 پلاٹ ایف الیون میں اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے الاٹ کئے جبکہ 100 پلاٹ متاثرین کو کوریجنڈم کے طور پر مخصوص سیکٹروں میں الاٹ کیے گئے۔ ممبر ایڈمن یاسر پیرزادہ اور انکے دو ساتھی افسران نے انکوائری کا آغاز کیا تو معلوم ہوا ڈائریکٹر لینڈ فارن سروس اور ڈپٹی ڈائریکٹر لینڈ محمد فرحان انفارمیشن گروپ سے تعلق رکھتے ہیں۔ تین رکنی کمیٹی نے ابتدائی طور پر محمد عرفان اللہ اور محمد فرحان کو عہدوں سے ہٹا دیا۔اس کا گہرا صدمہ وزیر مملکت طارق فضل چوہدری اور ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی مرتضیٰ جاوید عباسی کو ہوا کیونکہ معطل کیے گئے دونوں افراد سی ڈی اے میں طارق فضل چوہدری اور مرتضیٰ جاوید عباسی کے خاص سمجھے جاتے ہیں۔ چنانچہ اسکا بدلہ لینے کیلئے وزیر مملکت طارق فضل چوہدری نے قومی اسمبلی میں پوچھے گئے سوالات کا بروقت جواب

داخل نہ کروانے پر ممبر پلاننگ اسد محبوب کیانی اور ممبر ایڈمن یاسر پیرزادہ کو ٹھہرا یا اور سیکرٹری کیڈ نے پیر کو ان دونوں افراد کو معطل کردیا اور اس طرح طارق فضل چوہدری اور مرتضیٰ جاوید عباسی نے میئر و چیئرمین سی ڈی اے شیخ عنصر کو کرارا جواب دیدیا۔ منگل کو دونوں فریقوں نے ایک دوسرے کے حق اختیارات کو تسلیم کرتے ہوئے واپس اپنی پوزیشنوں پر جانے کا اعلان کردیا۔ منگل کی سہ پہر 2 بجے ممبر پلاننگ اسد محبوب کیانی اور ممبر ایڈمن یاسر پیرزادہ کو بحال کردیا گیا اور اب غیر اعلانیہ معاہدے کے تحت 7 دن میں ڈائریکٹر لینڈ عرفان اللہ اور ڈپٹی ڈائریکٹر محمد فرحا ن کو انکے عہدے پر بحال کردیا جائے گا۔

مصدقہ ذرائع کے مطابق غیر قانونی طور پر الاٹ کیے گئے 110پلاٹوں کا معاملہ بھی سرد خانے میں ڈالنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔ دونوں فریقوں کے درمیان مستقبل میں ایک دوسرے کے مفادات کو مکمل تحفظ دینے کا بھی عندیہ دیا گیا ہے۔ فریقین میں صلح کروانے میں ممبر ایڈمن یاسر پیرزادہ کے والد عطاء الحق قاسمی نے اہم کردار ادا کیا۔ واضح رہے کہ ممبر پلاننگ اسد محبوب کیانی اور وزیر مملکت طارق فضل چوہدری ایک دوسرے کو سخت ناپسند کرتے ہیں اور اسی وجہ سے میئر شیخ انصر عزیز اسد محبوب کیانی کے سب سے بڑے حامی ہیں کیونکہ شیخ انصر عزیز اور طارق فضل چوہدری کے درمیان بھی کافی عرصہ سے اختیارات کا تنازعہ چل رہا ہے۔



کالم



شوگر کے مریضوں کے لیے


گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…