منگل‬‮ ، 09 جون‬‮ 2026 

فوجی عدالتوں میں دہشتگردی کے مقدمات ، 161مجرموں کو سزائے موت سنائی گئی،کتنے مجرموں کو پھانسی دیدی گئی،فوجی حکام کی بریفنگ

datetime 19  دسمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (این این آئی) آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ملکی تاریخ میں پہلی بار سینیٹ کی پورے ایوان پر مشتمل کمیٹی کو قومی سلامتی سے متعلق بند کمرہ اجلاس میں بریفنگ دی۔سینٹ کی پورے ایوان پر مشتمل کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے فوجی حکام نے بتایا ہے کہ فوجی عدالتوں میں دہشتگردی کے مقدمات میں 161مجرموں کو سزائے موت سنائی گئی ٗ 56کو پھانسی دی گئی ۔

اس موقع پر ڈی جی ایم او جنرل ساحر شمشاد مرزا کی جانب سے سینیٹ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ فوجی عدالتو میں دہشتگردی کے مقدمات میں 161 مجرموں کو سزائے موت سنائی گئی جبکہ 56 مجرموں کو پھانسی دی گئی۔ذرائع کے مطابق فوجی حکام نے بریفنگ کے دوران بتایا کہ 13 مجرموں کو آپریشن رد الفساد سے قبل اور 43 کو آپریشن کے آغاز کے بعد پھانسی دی گئی۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ 7 جنوری کو فوجی عدالتوں کی مدت ختم ہونے پر مقدمات پر کارروائی روک دی گئی تھی بعد ازاں 28 مارچ کو فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کی گئی۔ذرائع کے مطابق فوجی حکام نے سینیٹرز کو بتایا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے آرمی چیف بننے کے بعد فوجی عدالتوں کو 160 مقدمات بھیجوائے گئے، جن میں سے 33 پر فیصلہ سنایا گیا، 8 کو سزائے موت اور 25 کو قید کی سزائی دی گئی جبکہ 120 مقدمات 19 نومبر 2017 کو فوجی عدالتوں میں بھیجوائے گئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…