منگل‬‮ ، 09 جون‬‮ 2026 

فیصل آباد، اپنوں کی بے حسی، کروڑوں کا مالک نہر کنارے جھونپڑی میں سسک سسک کر دم توڑ گیا، لواحقین کو جب معلوم ہوا تو انہوں نے کیا، کیا؟ افسوسناک واقعہ

datetime 11  دسمبر‬‮  2017 |

فیصل آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) انسانیت ہے تو سب کچھ ہے، انسانیت نہیں تو یہ دنیا بالکل جنگل کی طرح ہے، کہتے ہیں کہ خونی رشتے سب کو عزیز ہوتے ہیں لیکن فیصل آباد میں خونی رشتوں نے بے حسی کی انتہا کر دی، ایک افسوسناک واقعہ نے انسانیت کو شرما دیا، تفصیلات

کے مطابق فیصل آباد کا ایک امیر شخص جو کروڑوں کی جائیداد کا مالک تھا اور اس کی عمر 55 سال تھی، دو سال قبل 55 سالہ عبدالرحیم گھر والوں سے جھگڑنے کے بعد اپنا گھر چھوڑ کر چلا گیا، اس شخص کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں لیکن کسی کو اپنے والد کاخیال نہ آیا انہوں نے اسے دو سال تک پوچھا تک نہیں کہ وہ کس حال میں ہے، 55 سالہ عبدالرحیم نے نہر کنارے ایک جھونپڑی بنائی اور وہاں رہنے لگ گیا، اس پر بھی گھر والوں کے خون نے جوش نہ مارا اور آخر کار گزشتہ رات سردی کی شدت کا مقابلہ نہ کر سکا اور اپنوں کی بے حسی کا شکار ہو گیا، اس شخص کو سردی کی شدت نے نہیں بلکہ اس کے خونی رشتوں کی بے حسی نے موت دی، اس کے رشتہ داروں نے جنہوں نے اسے دو سال تک پوچھا بھی نہیں کہ وہ کس حال میں ہے اسے منا کر گھر ہی لے جائیں وہ بھی اپنے اس کی لاش سے لپٹ کر روتے رہے، اس موقع پر پولیس نے پوسٹ مارٹم کرانا چاہا لیکن اس شخص کے ورثاء نے انکار کیا اور کہا کہ ان کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں تھا، جس پر پولیس نے اس کروڑوں پتی مظلوم شخص کی لاش ورثاء کے حوالے کر دی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…