ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

فیصل آباد، اپنوں کی بے حسی، کروڑوں کا مالک نہر کنارے جھونپڑی میں سسک سسک کر دم توڑ گیا، لواحقین کو جب معلوم ہوا تو انہوں نے کیا، کیا؟ افسوسناک واقعہ

datetime 11  دسمبر‬‮  2017 |

فیصل آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) انسانیت ہے تو سب کچھ ہے، انسانیت نہیں تو یہ دنیا بالکل جنگل کی طرح ہے، کہتے ہیں کہ خونی رشتے سب کو عزیز ہوتے ہیں لیکن فیصل آباد میں خونی رشتوں نے بے حسی کی انتہا کر دی، ایک افسوسناک واقعہ نے انسانیت کو شرما دیا، تفصیلات

کے مطابق فیصل آباد کا ایک امیر شخص جو کروڑوں کی جائیداد کا مالک تھا اور اس کی عمر 55 سال تھی، دو سال قبل 55 سالہ عبدالرحیم گھر والوں سے جھگڑنے کے بعد اپنا گھر چھوڑ کر چلا گیا، اس شخص کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں لیکن کسی کو اپنے والد کاخیال نہ آیا انہوں نے اسے دو سال تک پوچھا تک نہیں کہ وہ کس حال میں ہے، 55 سالہ عبدالرحیم نے نہر کنارے ایک جھونپڑی بنائی اور وہاں رہنے لگ گیا، اس پر بھی گھر والوں کے خون نے جوش نہ مارا اور آخر کار گزشتہ رات سردی کی شدت کا مقابلہ نہ کر سکا اور اپنوں کی بے حسی کا شکار ہو گیا، اس شخص کو سردی کی شدت نے نہیں بلکہ اس کے خونی رشتوں کی بے حسی نے موت دی، اس کے رشتہ داروں نے جنہوں نے اسے دو سال تک پوچھا بھی نہیں کہ وہ کس حال میں ہے اسے منا کر گھر ہی لے جائیں وہ بھی اپنے اس کی لاش سے لپٹ کر روتے رہے، اس موقع پر پولیس نے پوسٹ مارٹم کرانا چاہا لیکن اس شخص کے ورثاء نے انکار کیا اور کہا کہ ان کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں تھا، جس پر پولیس نے اس کروڑوں پتی مظلوم شخص کی لاش ورثاء کے حوالے کر دی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…