ہفتہ‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2025 

عمران خان ، آصف علی زرداری ، علامہ طاہر القادری اورآج مصطفیٰ کمال بھی شامل ہو گئے، نواز شریف کے لیے جے آئی ٹی کے بعد شہباز شریف کے لیے بھی جے آئی ٹی  انجام تک پہنچا کر ہی دم لیں گے

datetime 9  دسمبر‬‮  2017
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تحقیقات کیلئے ججز پرمشتمل جے آئی ٹی بنانے کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلی شہبازشریف اور رانا ثنا اللہ فوری مستعفی ہوں اور خود کو قانون کے سامنے پیش کریں‘ سانحہ ماڈل ٹاؤن آپریشن کا فیصلہ کرنے والے 125 بیورو کریٹس اور پولیس افسروں کو بھی عہدوں سے ہٹایا جائے‘ انشااللہ ہم انصاف لے کر رہیں گے اور اس کیلئے قانونی اورسیاسی جنگ لڑتے رہیں گے‘

اب کینیڈا جانے کا سوال ہی پیدا نہیں سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ذمہ داروں کو انجام تک پہنچا کر ہی دم لیں گے ۔ وہ ہفتے کے روز لاہور میں پی ایس پی کے سربراہ مصطفی کمال سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے ڈاکٹر طاہر القادری نے مطالبات پیش کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلی شہبازشریف اور رانا ثنا اللہ فوری مستعفی ہوں اور خود کو قانون کے سامنے پیش کریں سانحہ ماڈل ٹان آپریشن کا فیصلہ کرنے والے 125 بیورو کریٹس اور پولیس افسروں کو بھی عہدوں سے ہٹایا جائے ،انہوں نے کہا کہ انشااللہ ہم انصاف لے کر رہیں گے اور اس کیلئے قانونی اورسیاسی جنگ لڑتے رہیں گے ،اگر ضرورت پڑی تو کارکنوں کو کال دیں گے اور پرامن طور پر سانحہ ماڈل ٹان کے کرداروں کو انجام تک پہنچائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ماڈل ٹاون میں ہلاکتوں کے ذمے دارشہبازشریف ،راناثنااللہ اورساتھی ہیں،ماڈل ٹاون میں خون کی ہولی کھیلی گئی،مثال ملکی تاریخ میں نہیں ملتی،انہوں نے کہا کہ ساڑھے 3 سال ہم قانونی جنگ لڑتے رہے،حکومت نے رپورٹ کو پبلک نہیں کرنے دی،ہم جسٹس باقر نجفی اور لاہور ہائیکورٹ کے فل بنچ کو مبارکباد پیش کرتے ہیں جنہوں نے جرات مندانہ فیصلے کئے جبکہ پی ایس پی کے سربراہ مصطفی کمال کا کہناتھا کہ ہم ڈاکٹر طاہر القادری کے مطالبے کی حمایت کرتے ہیں،رانا ثنااللہ کا نام سانحہ ماڈل ٹان رپورٹ میں آ چکا ہے ،سانحہ ماڈل ٹاون کے ذمے دارخود کو قانون کے حوالے کردیں، انہوں نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاون کے ذمے داربے قصورہوئے توعدالت سے چھوٹ جائیں گے،مصطفی کمال کا کہناتھا کہ طاہرالقادری کی کوشش سے رپورٹ منظرعام پرآئی اورسچ سامنے آگیا۔ان کا کہناتھا کہ بلدیہ فیکٹری میں آگ کاواقعہ حادثہ تھا آج بھی یہی کہتاہوں۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…