جمعرات‬‮ ، 12 فروری‬‮ 2026 

عمران خان ، آصف علی زرداری ، علامہ طاہر القادری اورآج مصطفیٰ کمال بھی شامل ہو گئے، نواز شریف کے لیے جے آئی ٹی کے بعد شہباز شریف کے لیے بھی جے آئی ٹی  انجام تک پہنچا کر ہی دم لیں گے

datetime 9  دسمبر‬‮  2017 |

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تحقیقات کیلئے ججز پرمشتمل جے آئی ٹی بنانے کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلی شہبازشریف اور رانا ثنا اللہ فوری مستعفی ہوں اور خود کو قانون کے سامنے پیش کریں‘ سانحہ ماڈل ٹاؤن آپریشن کا فیصلہ کرنے والے 125 بیورو کریٹس اور پولیس افسروں کو بھی عہدوں سے ہٹایا جائے‘ انشااللہ ہم انصاف لے کر رہیں گے اور اس کیلئے قانونی اورسیاسی جنگ لڑتے رہیں گے‘

اب کینیڈا جانے کا سوال ہی پیدا نہیں سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ذمہ داروں کو انجام تک پہنچا کر ہی دم لیں گے ۔ وہ ہفتے کے روز لاہور میں پی ایس پی کے سربراہ مصطفی کمال سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے ڈاکٹر طاہر القادری نے مطالبات پیش کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلی شہبازشریف اور رانا ثنا اللہ فوری مستعفی ہوں اور خود کو قانون کے سامنے پیش کریں سانحہ ماڈل ٹان آپریشن کا فیصلہ کرنے والے 125 بیورو کریٹس اور پولیس افسروں کو بھی عہدوں سے ہٹایا جائے ،انہوں نے کہا کہ انشااللہ ہم انصاف لے کر رہیں گے اور اس کیلئے قانونی اورسیاسی جنگ لڑتے رہیں گے ،اگر ضرورت پڑی تو کارکنوں کو کال دیں گے اور پرامن طور پر سانحہ ماڈل ٹان کے کرداروں کو انجام تک پہنچائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ماڈل ٹاون میں ہلاکتوں کے ذمے دارشہبازشریف ،راناثنااللہ اورساتھی ہیں،ماڈل ٹاون میں خون کی ہولی کھیلی گئی،مثال ملکی تاریخ میں نہیں ملتی،انہوں نے کہا کہ ساڑھے 3 سال ہم قانونی جنگ لڑتے رہے،حکومت نے رپورٹ کو پبلک نہیں کرنے دی،ہم جسٹس باقر نجفی اور لاہور ہائیکورٹ کے فل بنچ کو مبارکباد پیش کرتے ہیں جنہوں نے جرات مندانہ فیصلے کئے جبکہ پی ایس پی کے سربراہ مصطفی کمال کا کہناتھا کہ ہم ڈاکٹر طاہر القادری کے مطالبے کی حمایت کرتے ہیں،رانا ثنااللہ کا نام سانحہ ماڈل ٹان رپورٹ میں آ چکا ہے ،سانحہ ماڈل ٹاون کے ذمے دارخود کو قانون کے حوالے کردیں، انہوں نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاون کے ذمے داربے قصورہوئے توعدالت سے چھوٹ جائیں گے،مصطفی کمال کا کہناتھا کہ طاہرالقادری کی کوشش سے رپورٹ منظرعام پرآئی اورسچ سامنے آگیا۔ان کا کہناتھا کہ بلدیہ فیکٹری میں آگ کاواقعہ حادثہ تھا آج بھی یہی کہتاہوں۔



کالم



شوگر کے مریضوں کے لیے


گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…