جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

ایران کو میرے باپ کے خون کا حساب دینا ہوگا، علی عبداللہ صالح کے بیٹے نے ایران کیخلاف اعلان جنگ کردیا

datetime 5  دسمبر‬‮  2017 |

صنعا ء (آن لائن)یمن کے سابق مقتول صدر علی عبداللہ صالح کے بیٹے احمد صالح نے کہا ہے کہ ان کے والد کے قتل کا ذمہ دار ایران ہے اور ایران کو ان کے خون کا حساب دینا ہوگا۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق گذشتہ روز حوثی شدت پسندوں کے ہاتھوں بے رحمی سے مارے جانے والے سابق صدر علی صالح کے بیٹے نے کہا کہ ان کے والد ایرانی ایجنٹوں کے سامنے ڈٹ گئے تھے۔ اس لیے انہیں موت سے ہم کنار کردیا گیا۔ جنرل احمد صالح نے کہا کہ

ایرانی ایجنٹ تین سال سے یمن میں فساد پھیلا رہے ہیں۔ علی صالح نے یمن میں ایران کو فساد پھیلانے سے روکنے کی کوشش کی تو انہیں قتل کردیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ میرے والد کا قتل ایران کے لیے تباہی کا موجب بنے گا۔دریں اثناء یمن کے صدر عبد ربہ منصور ھادی نے مں حرف سابق صدر علی عبداللہ صالح کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے عوام سے ایرانی پروردہ حوثی باغیوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے سابق صدر کی حوثی باغیوں کے ہاتھوں ہلاکت کو قومی سانحہ قراردیتے ہوئے پوری قوم سے اس کی تعزیت کی ہے۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایک بیان میں صدر عبد ربہ منصور ھادی نے کہا کہ صنعاء کی حدود میں موجود سرکاری فوج باغیوں کے خلاف عوامی انتفاضہ کی مدد کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم حوثی دہشت گردوں سے مکمل نجات کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر کوششیں جاری رکھیں گے۔اپنے ایک ٹوئٹر بیان میں یمنی صدر نے یمنی عوام سے کہا کہ ہم جنگ کی خندق میں ایک دوسرے کے ساتھ ہیں، ہمارا ہدف اور منزل ایک ہے۔ ہم سب کو مل کر ایرانی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کیخلاف جدو و جہد کرنی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…