بدھ‬‮ ، 11 مارچ‬‮ 2026 

نوازشریف کی زیر صدارت مشاورتی اجلاس،اہم فیصلے، دھرنے کے بعد کی صورتحال پر غور،احسن اقبال اور طلال چودھری کو خاص ہدایات جاری کردی گئیں

datetime 28  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(این این آئی)مسلم لیگ (ن)کے مشاورتی اجلاس میں سابق وزیر اعظم محمد نوازشریف نے دھرنے سے متعلق وزارت داخلہ کے اقدامات پر عدم اطمینان کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ دھرنے کو درست انداز میں ہینڈل نہیں کیا گیا۔نیب عدالت میں پیشی کے بعد نواز شریف کی زیر صدارت پنجاب ہاؤس میں پارٹی رہنماؤں کا غیر رسمی مشاورتی اجلاس ہوا جس میں راجہ ظفر الحق، احسن اقبال، مریم اورنگزیب، طلال چوہدری، دانیال عزیز، پرویز رشید ، مریم نواز ،

طارق فضل چوہدری ،ڈاکٹر آصف کرمانی سمیت دیگر شریک ہوئے ۔میڈیا رپورٹس میں ذرائع کے حوالے سے کہا گیا کہ اجلاس میں دھرنا معاہدے سمیت موجودہ سیاسی صورتحال پر مشاورت کی گئی اور وزیر قانون زاہد حامد کے استعفے کے بعد کی صورتحال پر غور کیا گیا۔ذرائع نے بتایا کہ اجلاس میں شریف فیملی کیخلاف زیر سماعت مقدمات پر بھی بات چیت ہوئی۔ اس دوران نواز شریف کی لندن روانگی سمیت عوامی رابطہ مہم کے بارے میں مشاورت ہوئی جبکہ سینیٹ میں حلقہ بندیوں کی آئینی ترمیم منظور نہ ہونے کا بھی جائزہ لیا گیا۔اجلاس کے موقع پر کئی پارٹی رہنماؤں نے حالیہ واقعات میں پارلیمانی جماعتوں کے کردار کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی جماعتوں کے عدم تعاون کی وجہ سے زاہد حامد کو استعفیٰ دینا پڑی حالانکہ پارلیمانی جماعتوں کی مشاورت سے متفقہ قانون سازی ہوئی تھی۔ذرائع کے مطابق مشاورتی اجلاس میں اس بات کا بھی فیصلہ کیا گیا کہ ان تمام حالات کے باوجود (ن)لیگ سیاسی جماعتوں سے روابط برقرار رکھے گی اور محاذ آرائی سے گریز کرے گی

۔نجی ٹی وی کے مطابق اجلاس کے دوران رہنماؤں سے گفتگو کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھاکہ 70سال سے ملک کے ساتھ جو کچھ کیا جارہا ہے وہ نہ صرف غلط بلکہ افسوسناک بھی ہے۔دنیا میں کہیں کچھ ایسا نہیں ہوتا جو پاکستان میں ہورہا ہے، کبھی وزیراعظم کو پھانسی دی جاتی ہے، عہدے سے ہٹایا جاتاہے ،کبھی گرفتاری کی جاتی ہے اور کبھی جلا وطن کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ میرے خلاف عدالتی فیصلہ حقائق کے برخلاف تھا جسے عوام اور کارکنان نے قبول نہیں کیا، عوام اور کارکنان میرے ساتھ کھڑے ہیں، جلد ہی پاکستان کی ترقی کے لیے کارکنان کے ساتھ عہد کروں گا۔سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آمریت میں کسی ملک نے ترقی نہیں کی، جمہوریت کے تحفظ کے لیے سیاسی جماعتوں اور کارکنان کیساتھ مل کر جدوجہد کریں گے۔ذرائع کے مطابق نواز شریف نے احسن اقبال اور طلال چودھری سے علیحدگی میں بھی ملاقات کی جس میں دونوں وزرا ء نے سابق وزیراعظم کو دھرنے کے بارے میں بریفنگ اوروضاحتیں پیش کیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نوازشریف نے فیض آباد دھرنے سے متعلق وزارت داخلہ کے اقدامات پر عدم اطمینان اور برہمی کا اظہار کیا ۔محمد نوازشریف سے پشتونخواہ ملی پارٹی کے محمود اچکزئی نے بھی ملاقات کی اور پیپلزپارٹی سے رابطوں کے بارے میں آگاہ کیا۔



کالم



مذہبی جنگ


رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…