اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

کون سی شریعت لوگوں کا راستہ بند کرنے اور دھرنے میں استعمال ہونے والی زبان کی اجازت دیتی ہے؟ہائیکورٹ کے بعدسپریم کورٹ نے بھی بڑا حکم جاری کردیا

datetime 21  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(این این آئی) سپریم کورٹ نے فیض آباد انٹرچینج پر مذہبی جماعت کے دھرنے کا نوٹس لے لیا ۔سپریم کورٹ میں جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ ایک کیس کی سماعت کر رہا تھا کہ اس دوران ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت پہنچنے میں مشکلات کا ذکر کیا۔ڈپٹی اٹارنی جنرل سہیل محمود نے بتایا کہ وہ دھرنے کی وجہ سے صبح 8 بجے کے بجائے 6 بجے گھر سے عدالت کیلئے نکلتے ہیں

جبکہ وکیل ابراہیم ستی نے کہا کہ دھرنے کے باعث کیس تیار نہیں کرسکا۔اس موقع پر سپریم کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے فیض آباد انٹرچینج دھرنے کا نوٹس لیتے ہوئے سیکرٹری دفاع اور سیکرٹری داخلہ سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔عدالت نے آئی جی اسلام آباد، آئی جی پنجاب اور اٹارنی جنرل کو بھی نوٹس جاری کردیا، عدالت نے کہا کہ بتایا جائے کہ عوام کے بنیادی حقوق کے لیے کیا اقدامات کیے گئے ہیں۔سماعت کے دوران جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ کون سی شریعت لوگوں کا راستہ بند کرنے اور دھرنے میں استعمال ہونے والی زبان کی اجازت دیتی ہے۔دریں اثناء وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور راولپنڈی کو ملانے والے فیض آباد انٹرچینج پر دھرنا سولہویں روز بھی جاری رہا ٗجڑواں شہروں کے عوام کی مشکلات کم نہ ہوسکیں۔تفصیلات کے مطابق حکومت سے مذاکرات ٗعدالتی ہدایات اور عوام کی مشکلات فیض آباد دھرنا ختم نہ کراسکیں ٗگزشتہ روز مذاکرات کے دو راؤنڈ زکار گر ثابت نہ ہوئے اور صورتحال جوں کی توں برقرار ہے۔علما مشائخ کی وزرا سے ملاقات کا نتیجہ ایک اور نئی کمیٹی کی صورت میں نکلا جس نے راجہ ظفر الحق کمیٹی کی سفارشات منظر عام پر لانے اور ذمہ دار افراد کے خلاف ضروری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

دھرنا مظاہرین کو ہٹانے میں ناکامی پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایک بار پھر اسلام آباد انتظامیہ اور حکومت پر برہمی کا اظہار کیا اورسیکریٹری داخلہ ،چیف کمشنراور آئی جی اسلام آباد کو توہین عدالت کے شوکاز نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے عدالت کو بتایا ایسے عناصر موجود ہیں جو تشدد اور کشیدگی چاہتے ہیں ٗآگ اور خون کی سازش کو بھی ناکام بنانا ہے۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ آپ بے بس ہیں تو ایک ہی بار قوم کو خطاب کرکے بتا دیں ہمیں کام نہیں کرنے دیا جارہا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…