اسلام آباد(نیوزڈیسک )وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ یمن کے معاملے پر پاکستان اور ترکی مصالحتی کردار ادا کررہے ہیں ۔دونوں گروپس کو مذاکرات کی میز پر لانا چاہتے ہیں ۔خلیجی ممالک سے پاکستانیوں کی بے دخلی کا امکان نہیں ہے۔گناہ گار آدمی ہوں۔ حرمین شریفین کا دفاع کر تے ہوئے مرنے کےلئے تیار ہوں ۔پاکستان کے سعودی عرب کےساتھ خصوصی قریبی تعلقات تھے ۔ برقرار رکھنا چاہتے ہیں ۔ حوثیوں کی مذمت کرتے ہیں۔حکومت کی برطرفی کی کسی مسلح گروپ کو اجازت نہیں ہونی چاہیے امریکہ کے دورہ کے اختتام پر میڈیا سے بات چیت کے دور ان ایک صحافی کے سوال کے جواب میں وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہاکہ یمن کے تنازعے میں پاکستان کے مو ¿قف کی بناءپر مشرقِ وسطیٰ میں کام کرنے والے پاکستانی ورکروں کو وہاں سے نکلنے پر مجبور نہیں کیا جائےگا۔وزیر خزانہ نے بتایا کہ پاکستان اور سعودی عرب نے 1982ءمیں ایک فوجی معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت سعودی عرب کو پاکستانی فوجیوں کی خدمات حاصل کرنے کا حقدار قرار دیا گیا تھا انہوں نے کہا کہ یہ انتظامات ایک مختلف مقاصد کے لیے تھے اور اس بارے میں بات کرنا قومی مفاد میں نہیں ہے۔“اسحاق ڈار نے کہا کہ ”خدا نہ کرے ہم ایسا تاثر پیدا نہیں کرنا چاہتے ہیں کہ ہم سعودی عرب کے ساتھ نہیں ہیں۔ میں ایک گناہ گار بندہ ہوں تاہم میں حرمین شریفین کا دفاع کرتے ہوئے مرنے کے لیے تیار ہوں۔“ایک سوال کے جواب میں وزیر خزانہ نے کہاکہ یمن کے تنازعے پر روشنی ڈالی اور اس عزم کا اظہار کیا کہ اس مالی سال کے آخر تک غیرملکی زرِمبادلہ کے ذخائر 18.5 ارب ڈالرز کی ریکارڈ سطح تک پہنچ جائیں گےایک صحافی نے یاد دلایا کہ غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں سب سے بڑا حصہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا ہے، جنہوں نے گزشتہ نو مہینوں کے دوران 13.3 ارب ڈالرز کی ریکارڈ رقم بھیجی ہے تاہم سعودی عرب فوجیوں کو بھیجنے سے پاکستان کے انکار کی وجہ سے کچھ عرب ملکوں میں پاکستانی ورکروں کو ملک بدر کرنے کی دھمکی دی جارہی ہے۔اسحاق ڈار نے کہا کہ مجھے کافی حد تک یقین ہے کہ ہمیں اس صورتحال کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ یمن کے معاملے پر پارلیمنٹ کی قرارداد سے کچھ عرب ملکوں کو غلط فہمی ہوئی تھی تاہم ہم نے اپنا مو ¿قف واضح کردیا ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ خصوصی قریبی تعلقات تھے اور ہم ان تعلقات کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔وزیر خزانہ نے کہاکہ سعودی عرب کی علاقائی سالمیت کو کسی قسم کا خطرہ لاحق ہوا تو پاکستان اس کے شانہ بشانہ کھڑا ہوگا۔ ہم حوثیوں کی مذمت کرتے ہیں اور صدر عبدالرب المنصور ہادی کی بحالی کی حمایت کرتے ہیںان کی حکومت کی برطرفی کی کسی مسلح گروپ کو اجازت نہیں ہونی چاہیے۔“وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان اور ترکی مصالحتی کردار ادا کررہے ہیں، اور دونوں گروپس کو مذاکرات کی میز پر لانا چاہتے ہیں۔
”پاکستان کے سعودی عرب کےساتھ خصوصی قریبی تعلقات تھے “وزیرخزانہ اسحاق ڈار کے بیان نے سب کو چونکادیا
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
مشہد میں دو دن (آخری حصہ)
-
لاہور: چلڈرن اسپتال کی پارکنگ سے ڈاکٹر کی لاش ملنے کا معمہ حل، ابتدائی تحقیقات میں اہم انکشافات
-
ڈرائیونگ لائسنس بنوانے والوں کے لیے بڑی خوشخبری
-
ایران نے انسانی ہمدردی پر آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت کی اجازت دے دی
-
ایرانی پیٹرول کی قیمت 280 روپے فی لیٹر مقرر کرنے کا اعلان
-
3 دن سے لاپتہ چلڈرن ہسپتال کے ڈاکٹر کی لاش گاڑی سے برآمد، ہسپتال میں خوف و ہراس
-
پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی میں کمی کی کہانی خواجہ سعد رفیق منظرعام پر لے آئے
-
کراچی کنگز میں شامل متحدہ عرب امارات کے 2 کھلاڑیوں کو امارتی کرکٹ بورڈ نے وطن واپس بلالیا
-
غیرت کے نام پر بہن اور مبینہ آشنا ہلاک، بھائی سمیت تین ملزمان گرفتار
-
اپنی بیوی سے علیٰحدگی کی افواہوں پر کرکٹر امام الحق کا رد عمل سامنے آگیا
-
مارکیٹیں کس وقت بند ہوں گی؟ بڑی خبر آگئی
-
پسند کی شادی پر بھائی نے بہن کو سرعام ہلاک کر دیا
-
ایران کے پاس 48 گھنٹے باقی ہیں، کوئی معاہدہ کر لے یا آبنائے ہرمز کھول دے، ورنہ اس پر قیامت ٹوٹ پڑے...
-
نادرا نے ویزا درخواست اور بائیو میٹرک تصدیق کا عمل مزید آسان کر دیا



















































