پیر‬‮ ، 08 جون‬‮ 2026 

لفظ’’پاکستان‘‘کے خالق چوہدری رحمت علی کی میت برطانیہ سے لانے کی تیاریاں مکمل،انہیں پاکستان میں کس جگہ دفنایا جائیگا،فیصلہ ہوگیا

datetime 16  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلا م آ با د(آن لائن)لفظ ’’پاکستان‘‘ کے خالق اور برطانیہ میں مدفون چوہدری رحمت علی کا مزار پاکستان میں بنانے کی تیاریاں مکمل کرلی گئیں۔آزاد ملک کو ’’ لفظ‘ پاکستان کی شناخت دینے والے چوہدری رحمت علی جیسی عظیم ہستی کی میت برطانیہ سے کمالیہ لانے کی جدوجہد کی جارہی ہے اور اب امید روشن ہوگئی ہے کہ جلد میت پاکستان منتقل کردی جائے گی۔چوہدری رحمت علی کی میت پاکستان منتقل کرنے کے لیے کچھ عرصہ قبل

پاکستانی نژاد برطانوی شہری محمد سرور نور نے برطانوی حکومت کو درخواست دی تھی اور اب انہیں امید ہے کہ بہت جلد ان کی خواہش پوری ہوجائے گی۔پاکستانی نژاد برطانوی شہری سرور نور نے امید ظاہر کی چوہدری رحمت علی کی میت کمالیہ منتقل ہوجائے گی جب کہ مزار کے لیے کمالیہ کی ضلعی انتظامیہ نے 2 ایکڑ زمین بھی فراہم کردی۔چوہدری رحمت علی کے مزار کے لیے کمالیہ میں بائی پاس کے قریب چاہ ببر والا میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے زمین فراہم کی گئی۔مزار کے لئے مختص جگہ پر مسجد کی تعمیر بھی شروع ہوگئی ہے جبکہ اسی مقام پر چوہدری رحمت علی فری ڈسپنسری بھی قائم کی جائے گی۔تدفین کے سلسلہ میں تمام تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں، جیسے ہی برطانوی حکومت کی جانب سے اجازت ملے گی میت کو پاکستان لا کر کمالیہ میں دفن کیا جائیگا۔خیال رہے کہ چوہدری رحمت علی کا تعلق پاکستان کے شہر کمالیہ سے تھا لیکن 3 فروری 1951 میں برطانیہ کے شہر کیمبرج میں انتقال ہونے کے بعد امانتاً ان کی تدفین وہیں کردی گئی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…