جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

ششش ! کوئی ہے ؟ مرنے والا اپنی موت کی اطلاع دیتا ہے۔۔۔

datetime 29  جولائی  2016 |

مُردوں کے لوٹ آنے کی روایات قریباً ہر دور میں اور ہر معاشرے میں موجود رہی ہیں جب کہ روحوں کے تصور پر بھی کسی معاشرے میں اختلاف رائے نہیں پایا جاتا۔ حتیٰ کہ سائنس بھی روحوں کے تصور کو مکمل طور پر رد نہیں کرسکی ہے۔ انگلینڈ کے لارڈ آرچی بالڈزی لینڈ کی کہانی کو لندن ’‘ کے جریدے میں تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ‘اس حوالے سے سوسائٹی کے تحت ہونے والی تحقیق نے بھی اس واقعہ میں بنیاد کا کام کیا۔’’مرنے والا اپنی موت کی اطلاع دیتا ہے‘‘۔ کیا آپ اس تھیوری سے متفق ہیں؟
22
کہانی کچھ یوں ہے کہ 1885ء کے موسم سرما کے ایک دن دوپہر کے وقت لارڈ آرچی اپنی بیوی کے ساتھ اپنے کسی
رشتہ دار کو ملنے اس کے گھر گیا۔ وہاں راستے میں ایک جگہ اس نے اپنے ایک اور دوست کی زمینوں پر اس کے مزارع کو دیکھا جو اپنے گھر جا رہا تھا۔ لارڈ آرچی نے کچھ دیر رک کر اس کسان سے بات چیت کی اور اس سے اس کے مالک کی خیریت دریافت کی۔ اسی رات کوئی دس بجے کے قریب لارڈ آرچی کو کچھ ایسے واقعات پیش آئے جو اس کی سمجھ سے بالاتر تھے اور اسی لیے اس نے انہیں سوسائٹی کے سامنے پیش کیا تاکہ وہ ان کی توضیح پیش کرسکے۔ لارڈ آرچی کا بیان یہ تھا کہ اس رات وہ اپنے کمرے میں بیٹھا پڑھ رہا تھا جب اس نے اپنے گھر کا سامنے والا دروازہ کھلنے اور پھر بند ہونے کی آواز سنی۔ اس نے سوچا شاید اس کی بیوی کسی کام سے باہر گئی ہوگی لیکن پھر اسے خیال آیا کہ اس کی بیوی تو اس وقت اپنے کمرے میں سو رہی تھی۔ تو پھر یہ کون ہوسکتا تھا؟ اسے راہداری میں کسی کے چلنے کی آواز بھی سنائی دی۔ اب تو اسے تشویش ہوئی اور وہ اپنی جگہ سے اٹھا تاکہ دیکھ سکے کہ کون اس کے گھر میں گھس آیا تھا۔
DG
اسے محسوس ہوا کہ اس کے کمرے کی کھڑکی کے برابر ہی کوئی کھڑا تھا اور یوں تیز تیز سانس لے رہا تھا جیسے وہ بہت دور سے بھاگتا ہوا آیا ہو۔ لیکن وہ کون تھا؟ اس بارے میں لارڈ آرچی کچھ اندازہ نہیں کرسکا۔ لیکن اس منظر میں کچھ ایسی پراسراریت تھی کہ لارڈ آرچی اونچی آواز میں نہیں پوچھ سکا کہ کون وہاں کھڑا تھا۔ تبھی اسے گولی چلنے جیسی ایک چیخ سنائی دی جس نے اسے دہلا کر رکھ دیا۔ یہ ایک طویل چیخ تھی۔ وہ فوراً ہی کمرے سے باہر آیا تو اس نے اپنی بیوی کو باورچی خانے میں کھڑے پایا۔ وہ پانی پینے وہاں آئی تھی۔ اس نے بیوی سے اس چیخ کے بارے میں پوچھا تو اس نے بے خبری کا اظہار کیا کیوں کہ اس نے ایسی کوئی آواز نہیں سنی تھی۔ جب کہ ایسا ممکن نہیں تھا۔وہ اتنی اونچی اور تیز چیخ تھی کہ کیسے اس کی بیوی اسے سنے بغیر رہ سکتی تھی۔ تو کیا وہ اس کا واہمہ تھا۔ وہ گھر سے باہر گیا اور اس نے ہر طرف اس چیخ کے منبع کو دریافت کرنے کی کوشش کی۔ اگلے دن اسے معلوم ہوا کہ اس کے دوست کی زمینوں پر کام کرنے والے اسی مزارع نے خود کو گولی مار کر ہلاک کر لیا تھا جس سے وہ گزشتہ روز دوپہر کو ملا تھا۔ اسے یہ بھی معلوم ہوا کہ وہ کسان کسی عورت سے عشق میں مبتلا تھا اور اس عشق میں ناکامی سے مایوس ہو کر اس نے یہ اقدام کیااور کیڑے مار دوا کی زیادہ مقدار پی کر اپنی جان لے لی تھی۔پوسٹ مارٹم کی رپورٹ سے معلوم ہوا کہ کسان کی موت قریب قریب اسی وقت ہوئی تھی جب لارڈ آرچی نے چیخ کی آواز سنی تھی۔ تحقیق کرنے پر لارڈ آرچی کے ایک نوکر نے بتایا کہ اس نے بھی کل رات ایک چیخ سنی تھی جو بہت تیز تھی۔ یہ سارا واقعہ اتنا عجیب تھا کہ لارڈ آرچی نے آخر اسے سوسائٹی کے گوش گزار کرنے کا فیصلہ کیا۔ بعدازاں سوسائٹی کی انتظامیہ نے لارڈ آرچی کے ملازم سے بھی اس کا بیان سنا۔
DFAE
عام طور پر اس قسم کے جو واقعات ریکارڈ کئے گئے ہیں‘ ان میں ایک بات مشترک ہے کہ ان میں بصری حوالے موجود نہیں ہوتے یعنی کچھ دکھائی نہیں دیتا بلکہ مختلف آوازیں سنائی دیتی ہیں۔ یہ آوازیں کہیں ہونے والے سانحے کی خبر پہنچاتی ہیں اور عام طور پر یہ موت کی خبر لے کر آتی ہیں۔ کہا یہ جاتا ہے کہ یہ آوازیں مرنے والوں کی آخری چیخیں ہوتی ہیں جو کسی طور فضا میں پھیل جاتی اور کسی مقام پر اتنی واضح ہوجاتی ہیں کہ بہت تیز سنائی دیتی ہیں۔ وہ کون سا واسطہ ہے جس کے ذریعے یہ آوازیں اپنے منبع سے بہت فاصلے پر بھی سنائی دیتی ہیں اور یہاں یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیوں یہ آوازیں ہر کسی کو سنائی نہیں دیتی ہیں اور کچھ لوگ کے کان ہی اتنے حساس ہوتے ہیں کہ وہ انہیں سن پاتے ہیں؟کیا ایسے لوگوں میں عام افراد کی نسبت ایسی آوازوں کو سننے کی اضافی اہلیت موجود ہوتی ہے۔ اور کیا یہ عام لوگوں سے مختلف ہوتے ہیں۔ یا کیا یہ محض سننے والے کے اپنے ذہنی خبط کا قصہ ہے؟
63
آئر لینڈ میں ایسی آوازوں کے حوالے سے گہرا اعتقاد پایا جاتا ہے۔ وہ اس حوالے سے ایک لفظ بانشی (Banshee)استعمال کرتے ہیں جس کے لغوی معانی ایک چڑیل کے ہیں۔ ایسی آوازوں کے حوالے سے یہ خیال بھی پایا جاتا ہے کہ یہ ایسی چڑیلوں کی آوازیں ہوتی ہیں جو کسی کی روح کو لینے آتی ہیں۔ بعض بانشی سے یہ مطلب بھی اخذ کرتے ہیں کہ یہ مرنے والے کی روحیں ہوتی ہیں جو کسی باعث بانشی کا روپ دھار لیتی ہیں۔ آئرش لوگوں کا خیال ہے کہ بانشی کی آواز صرف وہی لوگ سن سکتے ہیں جو مرنے والے کے قریبی عزیز ہوں یا جن سے مرنے والا کوئی ایسی بات کرنا چاہتا ہو جو وہ اپنی زندگی میں ان سے نہ کر پایا ہو۔ تاہم ان کا خیال یہ بھی ہے کہ بانشی صرف سنائی ہی نہیں دیتی بلکہ یہ دکھائی بھی دیتی ہے اور بعض اوقات یہ مختلف روپوں میں دکھائی دیتی ہے جیسے یہ کسی حسین لڑکی کی صورت میں بھی جلوہ گر ہو سکتی ہے۔ بانشی آئرش زبان کا لفظ ہے اور اس کا صحیح مطلب ’خوبصورت عورت‘ ہے۔ بانشی کی آواز ہمیشہ کسی چیخ کی صورت میں ہی نہیں ہوتی بلکہ کبھی یہ ماتم کی صورت میں ہوتی ہے اور کبھی مدہم سرگوشی کی صورت میں۔ اس کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ مرنے والے کا آواز سننے والے سے کیا تعلق ہے اور وہ اس سے کیا کہنا چاہتا ہے۔ بعض اوقات یہ آواز صرف مرنے والے کی موت کے وقت ہی بلند ہوتی ہے لیکن اس حوالے سے مختلف طرح کے کیسز بھی دیکھنے میں آتے ہیں جب یہ آوازیں ایک سے زائد موقعوں پر کسی کی راہنمائی کرتی ہیں۔
1
یہاں اس حوالے سے انڈیا کی اسطوریات میں موجود ایک تصور ’اوورا‘ کا ذکر کرنا بے جا نہ ہوگا۔ اس تصور ’اوورا‘ سے مراد انسانی روح کا وہ حصہ ہے جو مرنے کے بعد کچھ دیر کے لیے زمین پر اس جگہ ہی رہ جاتا ہے جہاں مرنے والا رہا ہو یا جس جگہ سے مرنے والے کا خاص تعلق ہو۔ یہ ہمارا عام تجربہ ہے کہ کسی عزیز کے مرنے کے بعد بھی ہمیں اس کی موجودگی کا احساس ہوتا رہتا ہے اور یہی لگتا ہے کہ وہ یہیں ہمارے درمیان ہے۔ یا یہ کہ وہ ابھی یہیں تھا اور ابھی غائب ہوگیا ہے۔ اس قسم کا احساس ’اوورا‘ کی وجہ سے ہوتا ہے۔ عام طور پر ہندوستانی اپنے دیوتاؤں کی تصویروں میں اس ’اوورا‘ کو ایک سفید ہالے کی صورت میں دکھاتے ہیں جو اس دیوتا کے خاص طور پر سر کو گھیرے ہوتا ہے۔ لیکن ’اوورا‘ ایک خیر کا تصور ہے جس کا مطلب روح کی طاقت ہوتا ہے۔ جب کہ بانشی ایک منفی تصور ہے جو روح کی منفی قوت کو ظاہر کرتا ہے۔ اس آواز میں مسرت کا پہلو نہیں ہوتا بلکہ یہ ہمیشہ دکھ اور تکلیف بھری ہوتی ہے۔
سویڈن کے سائنس دان کارل واں لائنے نے زندہ اجسام کی درجہ بندی کا جدید نظام متعارف کروایا تھا۔ وہ اپنی سوانح عمری میں ایک واقعہ بیان کرتا ہے جس کا تعلق بانشی سے بنتا ہے۔ وہ لکھتا ہے کہ اس نے اپنے گھر میں ایک میوزیم بھی بنا رکھا تھا جہاں مختلف جاندار اشیاء کے فوسلز رکھے ہوئے تھے ۔

مزید پڑھئے:مودی سرکارمظاہرین کومنشترکرنے کےلئے ڈرون سے مرچیں پھینکے گی

وہ اپنا زیادہ تر وقت اس میوزیم میں گزارتا تھا۔ ایک رات وہ اور اس کی بیوی میوزیم میں کسی کے تیز قدموں سے چلنے کی آواز سے جاگ اٹھے۔ عام طور پر لائنے کا اسسٹنٹ میوزیم میں اپنے نوکری کے اوقات کے دوران اسی طرح تیز قدموں سے چلتا تھا جس پر لائنے نے اسے کئی مرتبہ سرزنش بھی کی تھی۔ لیکن یہ اس کی عادت تھی اور وہ اسے کوشش کے باوجود بدل نہیں سکا تھا۔ قدموں کی آواز سن کر لائنے پریشان ہوا کیوں کہ اس کا اسسٹنٹ تو دیر ہوئی اپنے گھر جا چکا تھا۔ وہ میوزیم میں گیا مگر اسے کوئی دکھائی نہیں دیا۔ اس نے میوزیم کی بتیاں جلا کر ہر طرف دیکھا لیکن وہاں کوئی نہیں تھا۔ باہر کا دروازہ بھی بند تھا سو اس بات کا بھی کوئی امکان نہیں تھا کہ کوئی باہر سے اندر آیا ہو۔ لیکن آواز اتنی واضح تھی کہ دونوں میاں بیوی اس کی حقیقت کو جھٹلا نہیں سکے۔ اگلے دن اسے اطلاع ملی کہ اس کا اسسٹنٹ دل کے دورے سے جاں بحق ہوگیا تھا اور اس کی موت کا وقت قریباً وہی تھا جب لائنے کو اس کے قدموں کی آواز سنائی دی تھی۔
DWSF
بانشی کے حوالے سے سائنسی تحقیقات بھی ہوئی ہیں۔ جرمنی کے سائنس دانوں نے ایک چڑیا پر اس قسم کے تجربے کیے تھے جس کا مقصد یہ معلوم کرنا تھا کہ کیا ہمارے پانچ حواس کے علاوہ بھی کچھ دوسری قسم کی حسیات ہوتی ہیں جو خاص تعلقات کے حوالے سے فعال ہوجاتی ہیں اور ان کی کیا حقیقت ہے۔ انھوں نے چڑیا کے ایک بچے کو اس سے چند میل دور ایک لیبارٹری میں رکھا اور چڑیا کے دل کی دھڑکن کو ریکارڈ کرنا شروع کردیا۔ اسی اثنا میں چند میل دور لیبارٹری میں موجود چڑیا کے بچے کو بجلی کا جھٹکا دے کر ہلاک کردیا گیا اور دیکھا کہ اس لمحہ چڑیا کے دل کی دھڑکن میں کیا تبدیلیاں آتی ہیں۔ انھوں نے دیکھا کہ عین اس لمحے جب اس کے بچے کو مارا گیاچڑیا کے دل کی دھڑکن فوراً کچھ دیر کے لیے تیز ہوئی تھی۔ ظاہر ہے چڑیا میں ایسی حسیات موجود ہوتی ہیں جو اسے اپنے بچے سے جوڑے ہوتی ہیں اور ان کے بارے میں اسے باخبر رکھتی ہیں۔ حتیٰ کہ میلوں کی دوری کے باوجود انہوں نے چڑیا کو بتادیا کہ اس کے بچے کے ساتھ کوئی سانحہ ہوچکا تھا۔
چڑیا کے تجربے کی روشنی میں بانشی کو سمجھنا اور بھی آسان ہوجاتا ہے۔ عام طور پر چھٹی حس کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ یعنی ایسی حس جو ہماری معروف پانچ حسیات کے علاوہ ہمارے اندر موجود ہوتی ہے۔ اس کی طاقت مختلف افراد میں مختلف ہوتی ہے لیکن یہ ہوتی سب میں ہے۔ اس کے مختلف روپ بھی ہوسکتے ہیں اور یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ بانشی بھی دراصل اسی حس کا ایک روپ ہے۔ اگر آپ کی چھٹی حس تیز ہے تو اس بات کا امکان ہے کہ آپ اپنے جاننے والوں اور خاص طور پر ان لوگو ں کے بارے میں قبل از وقت ہی کچھ جان لیں جن سے آپ کا ایک طرح کا تعلق خاص ہے۔ یہ بھی ہمارے عمومی مشاہدے کا حصہ ہے کہ ہم میں سے بہت سوں کو ایسے خواب دکھائی دیتے ہیں جن میں آئندہ ہونے والے کسی واقعہ کی پیشین گوئی کی گئی ہوتی ہے۔
زیر بحث موضوع کے حوالے سے ایک کتاب کا اکثر حوالہ دیا جاتا ہے ۔ اس کتاب کا نام ’Death and its Mystery‘ ہے۔ یہ کتاب 1922ء میں لند ن میں شائع ہوئی اور اس کی مصنفہ فلاماریون تھی۔ فلاماریون اپنی کتاب میں ایک فرانسیسی لڑکی مارتھا کی کہانی سناتی ہے۔ مارتھا نے اپنے شرابی باپ کے ساتھ ایسی اندوہناک زندگی گزاری تھی کہ جس پر اسے سخت شرمندگی تھی۔ آخر اس نے فیصلہ کیا کہ وہ خانقاہ میں داخلہ لے لے گی اور راہبہ بن جائے گی۔ یہ فیصلہ کرنے کے بعد وہ گھر سے بھاگی اور اپنی خالہ کے گھر آگئی۔اس کا کہنا تھا کہ اس کا باپ شراب کے نشے میں دھت ہو کر اس کے ساتھ دست درازی کرتا تھا۔ باپ کے ساتھ رہ کر لڑکی کی حالت نہایت ناگفتہ بہ ہوچکی تھی اور اس کی صحت بہت خراب تھی۔ اس کی خالہ نے لڑکی کو دیکھا تو اسے اندازہ ہوا کہ لڑکی زیادہ عرصہ زندہ نہیں رہے گی کیوں کہ اسے ٹی بی کا مرض لاحق ہوچکا تھا۔ اس نے یہ بات لڑکی کو بھی بتا دی لیکن اسے یہ جان کر حیرت ہوئی کہ لڑکی بھی اس بات سے بے خبر نہیں تھی۔ لڑکی نے اپنی خالہ سے کہا کہ وہ جانتی ہے کہ وہ صرف چھ ماہ مزید زندہ رہے گی حالاں کہ وہ کسی ڈاکٹر سے نہیں ملی تھی۔ اور نہ ہی وہ اپنا علاج کروانا چاہتی تھی کیوں کہ وہ خود مرجانا چاہتی تھی۔ لیکن اس نے اپنی خالہ سے کہا کہ جب بھی وہ مرے گی‘ اسے ضرور اس بات کی فوراً خبر ہوجائے گی اور اس مقصد کے لیے اس کسی سے پوچھنے کا انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔
چند دن بعد لڑکی نے ایک خانقاہ میں داخلہ لیا اور ایک راہبہ کی زندگی اختیار کرلی۔ یوں اس نے اپنے باپ کے ساتھ گزرنے والی اذیت ناک زندگی سے چھٹکارا پا لیا۔ کچھ عرصہ بعد ایک رات خالہ اچانک سوتے سے اٹھ بیٹھی۔ اس نے محسوس کیا جیسے شدید زلزلہ آیا ہو۔ اس کی چھت پر کسی شے کے کوٹے جانے کی آوازیں آرہی تھیں جیسے کچھ لوگ ایک دوسرے کو اینٹیں مار رہے ہوں اور اچھل کود کر رہے ہوں۔ وہ خوف زدہ ہوگئی۔ تاہم جب آوازیں تھم گئیں تو وہ اپنے بستر سے اٹھی اور ڈرتے ڈرتے چھت تک گئی۔ لیکن وہاں کسی قسم کی دھماچوکڑی کے آثار موجود نہیں تھے۔ بس تبھی جیسے اسے انکشاف ہوا کہ اس کی بھانجی کے ساتھ کچھ ہوا تھا۔ اور یہ سچ بھی تھا کیوں کہ اگلے ہی روز اس نے خانقاہ سے رابطہ کیا تو اسے بتایا گیا کہ اس کی بیٹی گزشتہ رات فوت ہوگئی تھی۔ جس وقت لڑکی کی موت ہوئی عین اسی وقت اس کی خالہ جاگی تھی اور اس نے اپنے گھر میں زلزلے کی سی کیفیت محسوس کی تھی۔ اسے یاد آیا اس کی بھانجی نے سچ کہا تھا کہ اس کی موت کی خبر لینے کے لیے اس کو کسی کا انتظار نہیں کرنا پڑے گا اور اسے یہ خبر خود بخود ہوجائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…