منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

پناہ کے ناکام متلاشیوں کو واپس لو، ورنہ ویزا پابندیاں بھگتو،یورپی یونین

datetime 30  اکتوبر‬‮  2017 |

برسلز(این این آئی)یورپی یونین نے پناہ کے مسترد درخواست گزاروں کی وطن واپسی میں تعاون نہ کرنے والے ممالک سے تعلق رکھنے والے شہریوں کو یورپی ممالک کے ویزوں کے اجرا میں

سختی کرنے کی دھمکی دی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق یورپی یونین کے رکن ممالک نے ایسے تارکین وطن کو واپس اپنے ملک میں قبول نہ کرنے یا اس سلسلے میں تعاون نہ کرنے والے ممالک کے خلاف سخت اقدامات کرنے پر اتفاق کیا ہے، جن کی پناہ کی درخواستیں مسترد ہو چکی ہوں۔اٹھائیس رکنی یورپی بلاک نے فیصلہ کیا ہے کہ اپنے ایسے شہریوں کی وطن واپسی میں، جن کی یورپی ممالک میں جمع کرائی گئی پناہ کی درخواستیں رد کی جا چکی ہیں، تعاون نہ کرنے والے ممالک کے لیے یورپی ویزا پالیسی سخت کر دی جائے گی۔ ویزوں کے اجرا میں سختی کے بعد ان ممالک سے تعلق رکھنے والے عام شہریوں کے لیے یورپی یونین کے رکن ممالک کے ویزوں کا حصول انتہائی دشوار ہو جائے گا۔یورپی کمیشن نے ان سخت اقدامات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ویزوں میں سختی کیے جانے کے اقدامات کے نتائج بھی سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں اور اسی دھمکی کے باعث بنگلہ دیش اور یورپی

یونین کے مابین یورپ سے پناہ کے مسترد درخواست گزاروں کی وطن واپسی سے متعلق ایک معاہدہ بھی طے پا گیا ہے۔رواں برس موسم بہار کے دوران بحیرہ روم کے سمندری راستوں کے ذریعے اٹلی پہنچنے والے پناہ کے متلاشی افراد میں بنگلہ دیشی شہریوں کی بڑی تعداد بھی شامل تھی۔یورپی کمیشن کا یہ بھی کہناتھا کہ اس ضمن میں کئی دیگر ممالک کے ساتھ مذاکرات بھی جاری ہیں اور تعاون نہ کرنے والے ممالک کے شہریوں کے لیے یورپی ممالک کے ویزوں کا حصول مشکل بنا دیا جائے گا۔یورپی یونین کے اس فیصلے کی تائید کرتے ہوئے جرمنی کے وزیر داخلہ تھوماس ڈے میزیئر کا کہنا تھا کہ اگر کوئی ملک اپنے شہریوں کی واپسی میں مسلسل تعاون نہیں کر رہا تو ردِعمل میں اس ملک کے شہریوں کے لیے بھی یورپ کا سفر دشوار بنا دینا ’ایک منطقی فیصلہ‘ ہے۔ ڈے میزیئر کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان اقدامات کے ذریعے خاص طور پر ان ممالک سے تعلق رکھنے والے سفارت کاروں اور حکام کو

ہدف بنایا جا رہا ہے جو پناہ گزینوں کی واپسی میں اصل رکاوٹ ہیں۔جرمن وزیر داخلہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ بنگلہ دیش کے ساتھ طے پانے والا معاہدہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ جب یورپی یونین کے رکن ممالک مشترکہ طور پر دباؤ ڈالیں تو اس کے فوری نتائج سامنے آتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…