اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

جرمنی میں آپریشن کے بعد جسم میں رہ گئی اشیاء سے سینکڑوں اموات

datetime 14  اپریل‬‮  2015 |

برلن،(نیوز ڈیسک) مریضوں  کے حقوق کے لیے سرگرم ایک گروپ نے اپنے ایک جائزے میں کہا ہے کہ جرمنی میں اندازاً چھ تا سات سو مریض سالانہ اس وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں کہ ڈاکٹر آپریشن کے دوران اُن کے جسموں میں متعدد اَشیاء بھول جاتے ہیں۔
ایکشن الائنس فار پیشنٹس سیفٹی (APSنے کہا ہے کہ ایسے کیسز کی تعداد تین ہزار سے بھی زیادہ ہے، جس میں ڈاکٹر آپریشنز کے دوران مریضوں کیجسموں کے اندر ایسی چیزیں بھول گئے، جنہیں وہاں نہیں ہونا چاہیے تھا۔
بہت سے کیسز میں جسم کے اندر روئی یا اس قسم کی دوسری چیزوں کی موجودگی کا بروقت پتہ چل جاتا ہے اور ایک دوسرے آپریشن کے ذریعے یہ چیزیں جسم سے نکال لیے جانے پر مریضوں کی جانیں بچ جاتی ہیں۔
ایکشن الائنس فار پیشنٹس سیفٹی میں ڈاکٹروں کے ساتھ ساتھ میڈیکل کمپنیوں، ہسپتالوں اور ہیلتھ انشورنس کمیپنیوں کے نمائندے بھی موجود ہوتے ہیں۔ یہ گروپ اس امر کے لیے کوشاں رہتا ہے کہ ہسپتالوں میں مریضوں کو نادانستگی میں کیے جانے والے اقدامات کے نتیجے میں نقصان سے بچایا جائے۔ یہ گروپ مریضوں کو اُن بیکٹریائی انفیکشنز سے بچانے کے لیے بھی سرگرم ہے، جن کا مریض عموماً ہسپتالوں میں اپنے قیام کے دوران شکار ہو جاتے ہیں۔

مزید پڑھئے:شردھا کپوراورعمران ہاشمی ایک ساتھ بڑی اسکرین پرجلوے بکھیرنے کے لئے تیار

رواں ہفتے مریضوں کے حقوق کے لیے سرگرم اس گروپ کی سالانہ کانفرنس جرمن دارالحکومت برلن میں منعقد ہوئی۔ اس موقع پر اس گروپ کی چیئرپرسن ہیڈوِک فرانسوا کیٹنر نے کہا کہ ہسپتالوں میں حالات بدلنے کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ اُنہوں نے الزام لگایا کہ اکثر اوقات ہسپتال کے اخراجات کو مخصوص حدود کے اندر رکھنے کی غرض سے مریضوں کی بہبود نظر انداز کر دی جاتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…