منگل‬‮ ، 10 مارچ‬‮ 2026 

مفتی عبدالقوی کو خطرناک بیماری لاحق، میڈیکل رپورٹ سامنے آگئی

datetime 21  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) قندیل بلوچ قتل کیس کے مرکزی ملزم مفتی عبد القوی کے دل کا ایک والو بند نکلا،انجیو گرافی رپورٹ سامنے آگئی ۔نجی ٹی وی کے مطابق ڈاکٹرز نے بتایا کہ مفتی عبد القوی کے دل کا ایک والو بند ہے۔ ان کا سٹنٹ کسی بھی وقت تبدیل کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایم ایس ہسپتال کا کہنا تھا کہ مفتی عبد القوی کے دل کی بائیں شریان دباﺅ کا شکار ہے۔ مریض کو ہسپتال میں زیر علاج رکھا جائے گا۔ البتہ مریض کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

یاد رہے کہ مفتی عبد القوی دل کی تکلیف کے باعث گذشتہ دو روز سے ملتان کے ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔وہ قندیل بلوچ کے قتل کیس میں گرفتار ہیں۔دریں اثنا بی بی سی کی رپورٹر ہانی طہٰ نے الزام لگایا ہے کہ مفتی عبدالقوی نے دوران انٹرویو انہیں چھونے کی کوشش کی جبکہ مفتی عبدالقوی نے ایسے کسی بھی فعل کی تردید کی ہے۔ہانی طہٰ کے مطابق اس نے مفتی عبدالقوی کے دفتر میں ان سے ملاقات کی اور ان سے پوچھا کہ کیا وجہ ہے قندیل کے اہلِ خانہ بھی یہی بات دہراتے ہیں کہ مفتی عبدالقوی کی وجہ سے لوگ قندیل کے خلاف ہو گئے تھے اور پھر ان کے بھائی کو بھی جن لوگوں نے ورغلایا وہ آپ کی وجہ سے ہی ہوا؟مفتی عبدالقوی  نے الزام مسترد کرتے ہوئے کہا ’ابتدائی دنوں میں شاید کچھ لوگوں میں یہ بات آئی ہو کہ مفتی صاحب قصور وار ہیں۔ لیکن جو مجھے اور میرے خاندان کو جانتے ہیں جو میری گفتگو سے باخبر ہیں میں نہیں سمجھتا ان کے دل میں یہ بات تھی۔ہانی طہٰ کے مطابق مفتی عبدالقوی بضد تھے کہ وہ معصوم ہیں اور قندیل کا قتل خدا کی کرنی تھی۔لیکن ایک بات جس نے مجھے خود حیران کیا جب مفتی عبدالقوی نے مجھے چھونے کی کوشش کی،میں نے مفتی عبدالقوی سے کہا کہ مجھے نماز پڑھنی ہے تو انہوں نے مجھے میرے نام کا مطلب بتا نا شروع کر دیا

اور اس کے بعد کیمرے کے سامنے میرے دونوں گالوں سے اپنی انگلیاں مس کیں، میں سمجھتی ہوں کہ وہ اس عمل کی کوئی توجیہہ پیش نہیں کر سکتے ۔مفتی عبد القوی نے صحافیوں سے ٹیلیفونک گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قندیل بلوچ کی برسی کے موقع پر دوبارہ سازشوں کا جال بننے کی کوشش کی جارہی ہے جس کی مذمت کرتا ہوں، انہوں نے کہا کہ قندیل بلوچ کے قتل کے حوالے سے کوریج کے لئے آنے والی صحافی خاتون کا نا صرف احترام کیا بلکہ میز بان ہونے کے ناطے ان کی خدمت بھی کی ،کئی ماہ گزرنے کے بعد ان کی جانب سے مجھ پر الزامات لگانا سمجھ سے بالا تر ہے اگر ایسی کوئی بات اس خاتو ن نے محسوس کی تھی تو وہ فوری اس کی نشاندہی کرتی لیکن 10 ماہ بعد میری ذات پر الزامات لگانے سے ثابت ہو گیا کہ پہلے بھی قندیل بلوچ کے سلسلے میں میرے اوپر بہتان بازی کی گئی اور اب بھی کرنے کی کوشش کی جارہی ہے انہوں نے کہا کہ قند یل بلوچ قتل نہیں بلکہ شہید ہوئی ،میں ہمیشہ قندیل کی مغفرت کے لئے دعا کرتا ہوں ۔



کالم



مذہبی جنگ


رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…