منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

ایک برس میں آلودگی 90 لاکھ جانوں کو نگل گئی ،۔طبّی جرید ہ

datetime 21  اکتوبر‬‮  2017 |

نیویارک(آن لائن)طبّی جریدے دی لینسنٹ کی رپورٹ کے مطابق سنہ 2015 میں دنیا میں 90 لاکھ افراد کی ہلاکت کی وجہ آلودگی تھی۔رپورٹ کے یہ نتائج دو سالہ منصوبے سے اخذ کیے گئے ہیں جبکہ ہلاکتیں زیادہ تر کم متوسط اور کم آمدن والے مالک میں ہوئیں۔یہ وہ ممالک ہیں جہاں ایک چوتھائی اموات کی

وجہ آلودگی ہی ہوتی ہے۔ بنگلہ دیش اور صومالیہ ان ممالک میں شامل ہے جو سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل ہیں۔برونائی اور سویڈین وہ ممالک ہیں جہاں آلودگی سے متاثر ہو کر ہلاک ہونے والوں کی تعداد سب سے کم ہے۔آلودگی سے زیادہ تر اموات غیر متعدی امراض کی وجہ سے ہوئیں جن میں ہارٹ اٹیک، سٹروک اور پھیپھڑوں کا سرطان شامل ہیں۔نیویارک میں ماؤنٹ سینائی میں واقع ایکن سکول آف میڈیسن سے وابستہ پروفیسر فلپ لینڈریگن کا کہنا ہے کہ ’آلودگی ماحولیاتی چیلینج سے بہت بڑا مسئلہ ہے۔ یہ ایک بڑا اور عالمی مسئلہ ہے جو انسانی صحت اور بہبود کے بہت سے پہلوؤں پر اثر انداز ہوتا ہے۔آلودگی سے سب سے بڑا خطرہ ساڑھے چھ لاکھ قبل از وقت ہلاکتوں کی صورت میں سامنے آیا۔ آلودگی کی اس قسم میں گیسز بھی ہیں جن میں گھروں میں لکڑی کا جلنا اور کوئلے کا جلانا شامل ہے۔دوسرا بڑا خطرہ پانی کی آلودگی ہے جس کی وجہ سے 18 لاکھ اموات ہوئیں جبکہ کام کی جگہ

آلودگی کے باعث آٹھ لاکھ اموات ہوئیں۔رپورٹ کے مطابق کل 92 فیصد اموات غریب ممالک میں ہوئیں جو کہ معاشی ترقی کے تیز عمل سے گزر رہے ہیں جیسے کے انڈیا جو کہ آلودگی سے متاثرہ ممالک کی فہرست میں پہلے نمبر پر ہے اور چین جس کا نمبر 16واں ہے۔اندازے کے مطابق برطانیہ میں آلودگی

کے باعث 50 ہزار اموات ہوئیں جو کہ کل اموات کا آٹھ فیصد ہیں۔188 ممالک کی فہرست میں برطانیہ کا نمبر 55واں ہے۔ تاہم امریکہ، جرمنی، فرانس، سپین، اٹلی اور ڈنمارک سمیت بہت سے یورپی ممالک اس انڈیکس میں برطانیہ سے اوپر ہیں۔برٹش لنگز فاؤنڈیشن سے وابستہ ڈاکٹر پینے وڈم کا کہنا ہے کہ

دنیا بھر میں فضائی آلودگی خطرناک حد پر پہنچ چکی ہے جس میں برطانیہ بہت سے مغربی ممالک، امریکہ اور یورپ کے مقابلے میں زیادہ بری طرح متاثرہو رہا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کی ایک وجہ ڈیزل سے چلنے والی گایوں پر انحصار ہے جو کہ زہریلے مادے اور گیسں فضا میں چھوڑتے

ہیں۔’یہ پھیپھڑوں کے مرض میں مبتلا افراد، بچوں اور عمر رسیدہ افراد کو بری طرح ہ متاثر کرتے ہیں۔امریکہ میں ہونے والی پانچ اعشاریہ آٹھ فیصد ہلاکتوں یعنی ایک لاکھ بچپن افراد کی موت کا سبب آلودگی کے مسئلے سے جوڑا جاتا ہے۔محققین کا کہنا ہے کہ فضائی آلودگی غریب ممالک کے علاوہ

امیر ممالک میں موجود غریبوں کو بھی متاثر کر رہی ہے۔ایک نجی ادارے پیور ارتھ سے وابستہ کارتی سنڈیلا کا کہنا ہے کہ ‘آلودگی، غربت، خراب صحت اور معاشی انصاف کا باہمی طور پر گہرا تعلق ہوتا ہے۔”آلودگی سے بنیادی انسانی حقوق مثلاً جینے کے حق، صحت، محفوظ کام اس کے علاوہ بچوں اور کمزوروں کی حفاظت کو خطرہ لاحق ہوتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…