یوں تو کائنات ارضی کا ہر رنگ ‘ ہر نعمت انمول او رقدرت کا بیش بہا خزانہ ہے لیکن قدرت نے سرزمین پاکستان کو جو حسن وجمال عطا کیا ہے و ہ شائد ہی کسی دوسرے ملک کے حصے میں آیا ‘ وطن عزیز پر قدرت کی بیش بہا مہربانیاں ہیں‘ یہاں بہتے قدرتی چشمے ہیں‘ دیوقامت پہاڑ ہیں‘ ندی نالے‘ جھرنے‘ دریا سمندر‘ صحرا ‘ ریگستان اور برف پوش چوٹیاں ہیں۔ سوات‘ کالام او رہنزہ جیسی پرکیف وادیاں ہیں‘ سیف الملوک جیسی موہ لینے والی جھیلیں ہیں وہیں اس خطہ زمین کوتاریخی لحاظ سے بھی بیش قیمت دولت ہاتھ آئی ہے‘ پاکستان میں موہنجودڑو جیسی تاریخ بکھری پڑی ہے تو ٹیکسلا جیسے قدیم شہر بھی آباد ہیں۔ تاریخ کے انہی اوراق سے چند ایسے مناظر جو آج دیکھنے والے مبہوت کر دیتے ہیں پاکستان میں موجود تاریخی قلعے ہیں۔ یہ قلعے مختلف بادشاہوں نے مختلف ادوار میں تعمیر کئے‘یہ مقامات اپنی خوبصورتی اور کشش کی وجہ سے نہ صرف برصغیر بلکہ دنیا بھر میں مقبول ہیں۔ قارئین کے لئے پاکستان کے چند مشہور قلعوں کی کہانی پیش خدمت ہے
قلعہ رانی کوٹ:

رانی قلعے کو دیوار سندھ کے طورپر بھی جانا جاتا ہے۔ یہ قلعہ جامشورو ضلع میں کیرتھر کے علاقے میں لکی پہاڑوں کے سلسلے میں واقع ہے ۔ یہ دنیا کا سب سے بڑا قلعہ بھی ہے جو 26کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے ۔یقیناً پاکستان کے عجائبات میں سے ایک ہے۔ ممکنہ طورپر قلعہ فارسی معزز فروعمران بن موسیٰ نے تعمیر کروایا جو836ء میں سندھ کے گورنر تھے۔ میر کرم علی خان تالپو ر اور ان کے بھائی میر مراد علی نے اسے دوبارہ تعمیر کروایا تھا۔
قلعہ روہتاس:

روہتاس قلعہ تاریخ کی انتہائی متاثر کن یادگاروں میں سے ایک ہے۔ اس قلعے کی تعمیر بادشاہ شیر شاہ سوری نے 1540 ء سے1547ء کے درمیان کروائی‘ یہ دریائے جہلم کے نزدیک قصبہ دینہ میں واقع ہے‘ اس قلعے کی تعمیر کا مقصد مقامی قبائلیوں کی طرف سے ہونے والی مزاحمت کو کچلنا تھا‘ اس قلعے کے بارہ دروازے ہیں اور یہاں 30ہزار فوج بیک وقت ٹھہر سکتی تھی ۔ اس قلعے کے زیادہ تر حصے قیمتی پتھر سے تعمیر کئے گئے اوراس کی دیواریں بہت بڑی اور مضبوط ہیں۔
قلعہ دراوڑ:

دراوڑ قلعہ بہاولپور کے علاقے ڈیرہ نواب شاہ سے 48کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ قلعہ پاکستان کے بڑے رقبے پر پھیلے قلعوں میں سے ایک ہے اور اب تک بہترین حالت میں موجود ہے۔ اس قلعے میں چالیس گڑھ موجود ہیں اور اسے چولستان میں میلوں دور سے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ اس کی دیواریں تیس میٹر اونچی ہیں۔ اس قلعے کی تعمیر ہندو راجپوت رائے جاجا بھٹی نے کروائی ۔یہ قلعہ اس وقت تک شاہی خاندان کی رہائش گاہ رہا جب تک 1733ء میں بہاولپور کے نوابوں نے اس پر قبضہ نہ کر لیا۔ اس قلعے میں نوابوں اور ان کے خاندانوں کی قبریں بھی موجود ہیں۔
لال قلعہ:
لال قلعے کو مظفر آباد قلعے کے طورپر بھی جانا جاتا ہے‘ یہ قلعہ کشمیر کے ضلع مظفر آباد میں دریائے جہلم نیلم کے سنگم پر واقع ہے۔ اس قلعے کی تعمیرابتدائی طورپر چک حکمرانوں نے کروائی تاہم اس کو مکمل سلطان مظفر خان نے کروایا۔ یہ قلعہ کشمیر کے مغلیہ دور میں اپنی اہمیت کھوچکا تھا کیونکہ ان مغل حکمرانوں کی دلچسپی کابل‘ بخارا اور بدخشاں میں تھی۔ درانی حکمرانوں کے دور میں اس کی اہمیت دوبارہ اجاگر ہونا شروع ہوئی ۔دریائے نیلم کو تین اطراف سے گھیرے اس قلعے کا ڈیزائن او ر ساخت انتہائی منفرد ہے۔
قلعہ بالا حصار:

بالا حصار قلعہ پشاور کے سب سے زیادہ قدیم تاریخی مقامات میں سے ایک ہے ۔انیسویں صدی کے آغاز میں یہ قلعہ افغان بادشاہوں کی رہائش گاہ تھا۔ اس قلعے کا نام پشتون بادشاہ تیمور شاہ درانی نے رکھا ‘اسے موسم سرمامیں دارالحکومت کے طورپر استعمال کیا جاتا تھا۔ یہ قلعہ متعدد بار تعمیر ہوااورجنگجوؤں کے حملے کی وجہ متعدد مرتبہ تباہ بھی ۔ آخری دفعہ یہ افغان بادشاہ شیر شاہ سوری کی وجہ سے تباہ ہوا جبکہ اس کی تعمیر مغل بادشاہ ہمایوں نے کروائی تھی۔
شاہی قلعہ :

لاہور میں واقع یہ قلعہ شاہی قلعے کے نام سے مشہور ہے۔ اس کا موجودہ ڈھانچہ مغل شہنشاہ اکبر نے تعمیر کروایا۔ مغل سکھ اور برطانوی راج میں اس قلعے کی باقاعدگی سے دیکھ بھال کی گئی۔20 ہیکٹر سے زائد رقبے پر پھیلے اس قلعے کے دو دروازے ہیں ‘عالمگیری درواز ہ شہنشاہ اورنگزیب نے تعمیر کروایا جوبادشاہی مسجد کی طرف کھلتا ہے
جبکہ مسجدی دروازہ شہنشاہ اکبر نے تعمیر کروایا لیکن فی الحال یہ گیٹ مستقل طورپر بند کر دیاگیا ہے اورعالمگیری دروازے کو ہی داخلی دروازے کے طورپر استعمال کیا جاتا ہے۔



















































