منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

’’بڑی تجوری پر نظریں لگ گئیں‘‘ 2018ء کے عام انتخابات میں کامیابی کا ’’ماسٹر پلان‘‘ شہباز شریف نے کیا منصوبہ بنا رکھا ہے؟ چونکا دینے والے انکشافات

datetime 18  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) شہباز شریف نعیم خان کو جان کر بینک آف پنجاب کے صدر کے عہدے سے نہیں ہٹانا چاہتے، تفصیلات کے مطابق معروف صحافی و تجزیہ نگار سمیع ابراہیم نے ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف جان بوجھ کر نعیم خان کو بینک آف پنجاب کے صدر کے عہدے سے نہیں ہٹانا چاہتے۔ سمیع ابراہیم نے کہا کہ پنجاب بینک برانچز کے لحاظ سے نیشنل بینک سے بھی بڑا بینک ہے،

انہوں نے کہا کہ پنجاب بینک کے صدر نعیم خان نے 2008ء میں یہ عہدہ سنبھالا تھا، جب ان کی مدت ملازمت 2013ء میں ختم ہوئی تو انہیں مزید ایک سال کی توسیع دی گئی، مگر اس کے بعد ان کی غیر معینہ مدت کے لیے پنجاب بینک کے صدر کے طور پر آرڈر جاری کیا گیا۔ معروف صحافی نے کہا کہ پنجاب بینک کے صدر کی تقرری کے لیے باقاعدہ اخبار میں اشتہار دیا گیا جس میں سینکڑوں لوگوں نے درخواست دی مگر اس سیٹ کے لیے معیار ایسا بنایا گیا کہ صرف 12 سے 15 لوگ ہی شارٹ لسٹ کیے گئے ان میں نعیم خان کا نام بھی شامل ہے۔ معروف صحافی نے کہا کہ آئندہ الیکشن تک وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف نے نعیم خان کو پنجاب بینک کا صدر رکھنے کے لیے اپنی کوششیں تیز کر دی ہیں کیونکہ پنجاب بینک کے صدر نعیم خان نے مسلم لیگ (ن) کے بہت سے لوگوں کو خوش کیا، انہوں نے کہا کہ میاں شہباز شریف اس لیے انہیں اس عہدے پر رکھنا چاہتے ہیں کہ انتخابات 2018ء سر پر ہیں اور انتخابات کے دوران پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ لوگ انتخابات میں اپنا پیسہ استعمال نہیں کرتے بلکہ ہمیشہ حکومتی وسائل سے ہی جیتتے آئے ہیں۔ معروف صحافی نے کہا کہ نعیم خان 2008 سے سارے معاملات کو دیکھ رہے ہیں اور صورتحال یہ ہے کہ یہاں کسی بھی معاملے کی کبھی کوئی تحقیق نہیں کی گئی انہوں نے کہا کہ وہاں جا کر کوئی انسپکٹر بھی فائلز کو کھولے تو بہت کچھ سمجھ آ جائے گا، معروف صحافی سمیع ابراہیم نے کہا کہ نعیم خان نے وزیر خارجہ سمیت بہت سے لوگوں کو خوش کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…