ہفتہ‬‮ ، 06 جون‬‮ 2026 

طاہر القادری پھر سڑکوں پر،بڑا اعلان کردیا

datetime 18  اکتوبر‬‮  2017 |

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے کہا کہ نواز شہباز میں کوئی فرق نہیں ہے دونوں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں،جسٹس باقر نجفی کمیشن کی رپورٹ اس لیے پبلک نہیں ہونے دی جارہی کیونکہ رپورٹ میں قاتلوں کے نام اور پتے درج ہیں، حکومتی اپیل میں شہدائے ماڈل ٹاؤن کے ورثاء سے وعدہ کیا گیا تھا کہ روزانہ کی بنیاد پر سماعت ہو گی مگر یہ وعدہ پورا نہیں ہو رہا ،

قاتل برادران اپنے وکلاء کو عدالت سے تعاون نہ کرنے کی فیس دیتے ہیں۔ عوامی تحریک کے وکلاء رہنماؤں سے ٹیلیفونک خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر طاہر القادری نے کہاکہ پنجاب کے سرکاری وسائل مظلوموں کو انصاف دینے کی بجائے قاتلوں کو بچانے پر خرچ ہورہے ہیں،طاقتور کے ظلم کا شکار مظلوموں کو انصاف دینا ریاست کی اولین ذمہ داری ہے مگر موجودہ نام نہاد جمہوری حکمران انصاف کے راستے کی سب سے بڑی دیوار بنے ہوئے ہیں۔ اس بار مظلوم انصاف کے لیے سڑکوں پر آئے تو قصاص لیے بغیر گھروں کو نہیں لوٹیں گے۔ سربراہ عوامی تحریک نے کہا کہ جسٹس باقر نجفی کمیشن کی رپورٹ پبلک کرنے کے ضمن میں سنگل بنچ کے فیصلے کے خلاف حکومتی اپیل پر فیصلے کے حوالے سے روزانہ کی بنیاد پر سماعت کا کہا گیا تھا مگر حکومتی وکلاء حیلوں ہتھکنڈوں سے لمبی لمبی تاریخیں لے کر روایتی تاخیر ہتھکنڈے اختیار کررہے ہیں ،عدالت قاتلوں کو کسی قسم کا ریلیف نہ دے، مظلوموں اور مقتولوں کی بات سنی جائے۔حکمرانوں کے اس فاشسٹ رویے کے باعث لاقانونیت کا کلچر پروان چڑھ رہا ہے۔فیصلوں میں جتنی تاخیر ہو گی نقصان اتنا زیادہ ہو گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…