منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

قندیل بلوچ قتل کیس مفتی عبد القوی کو گرفتار کر لیا گیا

datetime 18  اکتوبر‬‮  2017 |

ملتان(آئی این پی ) ماڈل قندیل بلوچ قتل کیس میں ضمانت مسترد ہونے پر عدالت سے فرار ہونے والے ملزم مفتی قوی کو گرفتار کرلیا گیا ۔ملتان پولیس کے مطابق عدالت سے فرار ہونے کے بعد قندیل بلوچ قتل کیس میں نامزد ملزم مفتی قوی کی گرفتاری کے لئے ملتان اور مظفر گڑھ میں چھاپے مارے گئے تاہم پولیس کی کوششیں اس وقت کارگر ثابت ہوئی، جب مظفرگڑھ کے ایک گھر سے مفتی قوی کو حراست میں لیا گیا۔اس سے قبل

آج ملتان کی سیشن کورٹ میں قندیل بلوچ قتل کیس کی سماعت ہوئی تھی، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج امیرمحمد خان نے کیس کی سماعت کی، اس موقع پر عدالت میں ملزم مفتی عبدالقوی پیش ہوئے تھے۔دوران سماعت عدالت نے فریقین کے وکلا کے دلائل سننے کے بعد مفتی عبدالقوی کی درخواست خارج کر تے ہوئے انہیں گرفتار کرنے اور کیس میں شامل تفتیش کرنے کا حکم دیا تھا ، جبکہ مفتی عبدالقوی فیصلہ سنانے سے قبل عدالت سے باہر نکل گئے اور فرار ہو گئے تھے۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ مفتی عبدالقوی کے خلاف دفعہ 302 اور 109 کے تحت کارروائی کی جائے گی، پولیس کے مطابق مفتی قوی پر قندیل کے بھائیوں کو قتل کے لیے اکسانے کا الزام ہے، واضح رہے کہ عدالت نے گزشتہ روز ملزم مفتی عبد القوی کی عبوری ضمانت میں ایک روز کی توسیع کی تھی۔یاد رہے گذشتہ برس جولائی میں معروف ماڈل قندیل بلوچ کو مبینہ طور پر ان کے بھائی وسیم نے غیرت کے نام پر قتل کر دیا تھا جبکہ اس مقدمے میں مقتولہ کا کزن حق نواز بھی مبینہ طور پر شامل تھا۔ یہ دونوں ملزمان اس وقت ملتان جیل میں ہیں۔قندیل بلوچ کے والد عظیم کی درخواست پر رویت ہلال کمیٹی کے سابق رکن مفتی عبدالقوی کو بھی اعانت جرم کے الزام میں مقدمے میں نامزد کیا گیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…