ہفتہ‬‮ ، 06 جون‬‮ 2026 

قندیل بلوچ قتل کیس مفتی عبد القوی کو گرفتار کر لیا گیا

datetime 18  اکتوبر‬‮  2017 |

ملتان(آئی این پی ) ماڈل قندیل بلوچ قتل کیس میں ضمانت مسترد ہونے پر عدالت سے فرار ہونے والے ملزم مفتی قوی کو گرفتار کرلیا گیا ۔ملتان پولیس کے مطابق عدالت سے فرار ہونے کے بعد قندیل بلوچ قتل کیس میں نامزد ملزم مفتی قوی کی گرفتاری کے لئے ملتان اور مظفر گڑھ میں چھاپے مارے گئے تاہم پولیس کی کوششیں اس وقت کارگر ثابت ہوئی، جب مظفرگڑھ کے ایک گھر سے مفتی قوی کو حراست میں لیا گیا۔اس سے قبل

آج ملتان کی سیشن کورٹ میں قندیل بلوچ قتل کیس کی سماعت ہوئی تھی، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج امیرمحمد خان نے کیس کی سماعت کی، اس موقع پر عدالت میں ملزم مفتی عبدالقوی پیش ہوئے تھے۔دوران سماعت عدالت نے فریقین کے وکلا کے دلائل سننے کے بعد مفتی عبدالقوی کی درخواست خارج کر تے ہوئے انہیں گرفتار کرنے اور کیس میں شامل تفتیش کرنے کا حکم دیا تھا ، جبکہ مفتی عبدالقوی فیصلہ سنانے سے قبل عدالت سے باہر نکل گئے اور فرار ہو گئے تھے۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ مفتی عبدالقوی کے خلاف دفعہ 302 اور 109 کے تحت کارروائی کی جائے گی، پولیس کے مطابق مفتی قوی پر قندیل کے بھائیوں کو قتل کے لیے اکسانے کا الزام ہے، واضح رہے کہ عدالت نے گزشتہ روز ملزم مفتی عبد القوی کی عبوری ضمانت میں ایک روز کی توسیع کی تھی۔یاد رہے گذشتہ برس جولائی میں معروف ماڈل قندیل بلوچ کو مبینہ طور پر ان کے بھائی وسیم نے غیرت کے نام پر قتل کر دیا تھا جبکہ اس مقدمے میں مقتولہ کا کزن حق نواز بھی مبینہ طور پر شامل تھا۔ یہ دونوں ملزمان اس وقت ملتان جیل میں ہیں۔قندیل بلوچ کے والد عظیم کی درخواست پر رویت ہلال کمیٹی کے سابق رکن مفتی عبدالقوی کو بھی اعانت جرم کے الزام میں مقدمے میں نامزد کیا گیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…