منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

عائشہ گلالئی قومی اسمبلی کی ممبر رہیں گی یا نہیں،کپتان کی درخواست پر الیکشن کمیشن نے قسمت کا فیصلہ کر لیا

datetime 18  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) عائشہ گلالئی کو ڈی سیٹ کرنے کا معاملہ، الیکشن کمیشن نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔ تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن میں پی ٹی آئی کی منحرف رہنما عائشہ گلالئی کو ڈی سیٹ کرنے کیلئے عمران خان کے ریفرنس کی سماعت ہوئی ، تحریک انصاف کے وکیل سکندر بشیر نے اپنے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ گلالئی نے پارٹی چھوڑنے کا اعلان خود کیا

پھر اس بیان سے منحرف ہو گئیں۔عائشہ گلالئی کا پارٹی چھوڑنے کیلئے تحریری استعفیٰ دینا لازم نہیں، س بات پر چیف الیکشن کمشنر نے پوچھا کہ آپ کی جماعت سے مستعفی ہونے کا طریقہ کیا ہے جس کے جواب میں عمران خان کے وکیل نے کہا کہ پی ٹی آئی کے آئین میں کسی رکن کیلیے استعفا دینے کا طریقہ کار نہیں پارٹی چیرمین کسی بھی رکن کو معطل یا پھر بے دخل کرسکتے ہیں۔عائشہ گلالئی کے خلاف انضباطی کارروائی استعفا دینے پر روکی گئی تھی۔آئینی طور پر ممکن نہیں کہ عائشہ گلالئی پارٹی چھوڑدیں،اسمبلی رکنیت نہ چھوڑیں۔عائشہ گلالئی قومی اسمبلی کی مخصوص نشست پر نامزد کی گئیں۔عائشہ گلالئی کسی حلقے سے جیت کر قومی اسمبلی کی رکن منتخب نہیں ہوئیں۔پارٹی چیئرمین کے ڈیکلریشن کے بعد گلالئی کی اسمبلی رکنیت منسوخ کی جانی چاہیے۔عاشہ گلا لئی کے وکیل بیرستر مسرور نے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عائشہ گلا لئی نے تحریک انصاف نہی چھوڑی۔عائشہ گلالئی کو نوٹس دیر سے بھیجا گیا جو کہ بدنیتی پر مبنی ہے۔عائشہ گلالئی سے17 اگست تک جواب مانگنےکاشوکاز18 اگست کوپوسٹ کیاگیا۔بیرسٹرمسرورنےکوریئرکمپنی کی بکنگ،ڈلیوری کی تفصیلات الیکشن کمیشن میں پیش کردیں۔وقفے بعد عائشہ گلالئی کے وکیل نے اپنے دلائل مکمل کئے۔جس پر الیکشن کمیشن نے کہا کہ وہ عائشہ گلالئی

کو ڈی سیٹ کرنے سے متعلق ریفرنس پر 24 اکتوبر کو فیصلہ سنائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…