منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

بجلی اور توانائی کی ترسیل اور تقسیم کے نظام کو جدید بنانا ہماری اولین ترجیح ہے، سرتاج عزیز

datetime 17  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (این این آئی)ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن سرتاج عزیزنے کہاہے کہ جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے بجلی اور توانائی کی ضروریات کا درست اندازہ لگانے میں مدد مل رہی ہے، بجلی اور توانائی کی ترسیل اور تقسیم کے نظام کو جدید بنانا ہماری اولین ترجیح ہے۔وہ سی ڈی ڈبلیو پی کے اجلاس سے خطاب

کررہے تھے ۔اجلاس میں 53.6 ارب روپے کی لاگت کے چوبیس منصوبے منظور جبکہ اجلاس میں 27.1 ارب روپے لاگت کے 3 منصوبے ایکنک کو حتمی منظوری کیلئے بھجوادیئے گئے۔توانائی سے متعلق 18.8 ارب روپے ، آبی وسائل سے متعلق 1186 ملین روپے کے منصوبے شامل ہیں ۔اجلاس میں وزارت پانی و بجلی کی جانب سے لاھور میں پنجاب یونیورسٹی کے گرڈ سٹیشن سے منسلک ٹرانسمیشن لائن220 کے وی کی تعمیر کے لیے 2948.11 ملین روپے کا منصوبہ منظور کیا جبکہ اسلام آباد زیرو پوائینٹ میں 220 کے وی کا 2541.98 ملین روپے کی لاگت کا منصوبہ منظور کیا گیا۔ اجلاس میں این ٹی ڈی سی کی توسیع اور اپ گریڈیشن کے لیے 12802.55 ملین روپے کا پیش کیا جسے اجلاس نے ایکنک بھجوا دیا۔ وزارت توانائی نے پارن ڈسٹرکٹ شانگلہ میں 132 کے وی گریڈ سٹیشن کی تشکیل کا منصوبہ پیش کیا ، جس کی کل لاگت 529.69 ملین روپے دی گئی جس کا مقصد پارن

شانگلہ میں وولٹج لائن کو بہتر بنانے ، لائن نقصان کو کم کرنے اور صارفین کو نئے کونیکشنز فراہم کرنے کے لیے ہے جسے اجلاس نے منظور کر لیا ہے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سرتاج عزیز نے کہاکہ حکومت مربوط توانائی کے نظام پر توجہ دے رہی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ توانائی شعبے

میں نجی شعبے کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔ بارہویں پنج سالہ ترقیاتی منصوبے پر کام کا آغاز کیا جا چکا ہے، بارہویں پنج سالہ منصوبے میں بجلی اور توانائی کے نظام اور انفراسٹرکچر کو جدید بنانے کے اہم اقدامات کا تعین کیا جا رہا ہے۔ سرتاج عزیز نے کہا کہ توانائی بحران کے خاتمے کا ابتدائی

مرحلہ مکمل ہونے کو ہے، اگلے مرحلے میں نظام اور اس میں بہتری لانے کے اقدامات کئے جائیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…