منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

969میگاواٹ کے نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ نے ایک اہم سنگ میل عبور کر لیا

datetime 17  اکتوبر‬‮  2017 |

لاہور ( این این آئی)قومی اہمیت کے حامل نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ نے اپنی تعمیر کا ایک اہم سنگ میل عبور کر لیا ہے، پراجیکٹ کا ڈیم مکمل کر لیا گیا ہے اور اس کے ریزروائر میں پانی کی بھرائی شروع کردی گئی ۔نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ آزاد کشمیر میں دریائے نیلم پر تعمیر کیا جارہا ہے ۔ یہ

منصوبہ انجینئرنگ کا شاہکار ہے جس کا 90فیصد حصہ بلندو بالا پہاڑوں کے نیچے زیر زمین ہے۔ منصوبے کی مجموعی پیداواری صلاحیت 969 میگاواٹ ہے ۔ اس کے چار پیداواری یونٹ ہیں جن میں سے ہر یونٹ کی پیداواری صلاحیت 242.25میگاواٹ ہے۔ منصوبے کا پہلا یونٹ فروری 2018ء کے آخر میں مکمل ہوگا ، دوسرا یونٹ مارچ کے وسط جبکہ تیسرا اور چوتھا یونٹ اپریل میں مکمل ہوں گے۔ منصوبہ اپنی تکمیل پر ہر سال قومی نظام کو تقریباً پانچ ارب یونٹ سستی پن بجلی مہیا کرے گا ۔ منصوبے سے ہر سال تقریباً50 ارب روپے کے مساوی فوائد حاصل ہوں گے۔نوسیری آزاد کشمیر میں دریائے نیلم پر ڈیم کی تکمیل کے ساتھ نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ اپنی تکمیل کے حتمی مرحلے میں داخل ہوگیا ہے۔ ڈیم کی لمبائی 160میٹر اور اونچائی 60میٹر ہے۔ ریزروائر میں روزانہ ایک سے تین میٹر کی بلندی تک پانی بھرا جائے گا ۔ ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی مجموعی صلاحیت 8ہزار 207ایکڑ

فٹ ہے۔ ریزروائرمیں پانی کی بھرائی تقریباً ایک ماہ میں مکمل ہوگی جس کے بعد رواں سال کے آخر تک ریزروائر سے پانی واٹر وے سسٹم میں چھوڑا جائے گا۔یہ امرقابل ذکر ہے کہ ریزروائر میں پانی کی بھرائی کے دوران ڈیم سے زیریں جانب پانی کی ضروریات متاثر نہیں ہوں گی ۔ ڈیم کے سپل وے میں

پانی کے اخراج کو کنٹرول کرنے کے لئے تین گیٹ نصب ہیں ۔ ریزروائر کی بھرائی کے دوران ایک گیٹ کھلا رہے گا اور ڈیم کے زیریں جانب واقع علاقوں میں آباد لوگوں کی پانی کی ضروریات پوری کرنے ، آبی حیات اور ماحولیات کے تحفظ کے لئے 15کیوسک پانی ہمیشہ خارج ہوتا رہے گا۔

ماحولیات کے تحفظ کے لئے نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے پی سی ون میں 5ارب 56کروڑ روپے کی خطیررقم مختص کی گئی ہے۔ اس حوالے سے اقدامات میں مظفر آباد ، چھتر کلاس ، کومی کوٹ اوردیگر علاقوں میں واٹر سپلائی کے متعدد منصوبے بھی شامل ہیں اور ان تمام منصوبوں کو مذکورہ فنڈز کے ذریعے آزاد کشمیر حکومت عمل میں لائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…