منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

’’آرمی چیف کو معیشت پر رائے دینے کا حق ہے‘‘ احسن اقبال کا بیان غلط، وزیر اعظم خاقان نے قصہ ہی تمام کر ڈالا

datetime 17  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ سول ملٹری تناؤ موجود نہیں تاہم اختلاف رائے ہوسکتا ہے جبکہ آرمی چیف کو بھی معیشت پر رائے دینے کا حق حاصل ہے۔نجی ٹی وی چینل ’آج نیوز‘ کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ’سول ملٹری تناؤ موجود نہیں تاہم اختلاف رائے ہوسکتا ہے، معاشی عشاریے بہتری کی طرف ہیں، معیشت پر کچھ لوگوں کو گلاس آدھا خالی نظر آتا ہے لیکن

مجھے گلاس آدھا بھرا ہوا نظر آتا ہے، جبکہ آرمی چیف کو بھی معیشت پر رائے دینے کا حق حاصل ہے۔‘انہوں نے ٹیکنوکریٹس کی حکومت کی افواہوں کے حوالے سے کہا کہ’ ٹیکنوکریٹس یا قومی حکومت کے قیام سے بہتری نہیں آسکتی، تبدیلی آئین کے مطابق آنی چاہیے ورنہ ملک کا نقصان ہوگا، جس کہ کسی کو اگر مجھ سے اختلاف ہے تو ایوان میں تحریک عدم اعتماد لے آئے۔‘سابق وزیر اعظم نواز شریف کی نااہلی کے سوال پر شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ’اقامہ پر نواز شریف کو نااہل قرار دینے کی وجہ کسی کو سمجھ نہیں، تاریخ فیصلہ کرے گی کہ نواز شریف کو کیوں نکالا جبکہ ذوالفقار علی بھٹو کا فیصلہ بھی تاریخ نے قبول نہیں کیا۔‘کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی قومی اسمبلی میں متنازع تقریر سے متعلق انہوں نے کہا کہ ’کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کے خیالات کو ہر کسی نے رد کیا اور ان کی تقریر سے پارلیمنٹ میں کسی ایک رکن نے بھی اتفاق نہیں کیا۔‘پارٹی میں فارورڈ بلاک کی افواہوں کے حوالے سے وزیر اعظم نے کہا کہ ’فارورڈ بلاک ماضی میں بھی بنتے رہے ہیں لیکن سب کو معلوم ہے کہ فارورڈ بلاکس کا کیا انجام ہوتا ہے جبکہ فارورڈ بلاک بنانے والے اپنے ماضی پرنظر ڈالیں۔ان کا کہنا تھا کہ ’احتساب عدالت کے باہر بدنظمی کی رپورٹ سامنے آنی چاہیے، کسی کو عدالت کا استحاق مجروح کرنے کا حق نہیں، وکلا کو عام لوگوں سے زیادہ عدالتوں کا احترام کرنا چاہیے جبکہ اگر احتساب عدالت کے جج چاہیں تو رینجرز کو بلا سکتے ہیں۔‘

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…