ہفتہ‬‮ ، 06 جون‬‮ 2026 

’’آرمی چیف کو معیشت پر رائے دینے کا حق ہے‘‘ احسن اقبال کا بیان غلط، وزیر اعظم خاقان نے قصہ ہی تمام کر ڈالا

datetime 17  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ سول ملٹری تناؤ موجود نہیں تاہم اختلاف رائے ہوسکتا ہے جبکہ آرمی چیف کو بھی معیشت پر رائے دینے کا حق حاصل ہے۔نجی ٹی وی چینل ’آج نیوز‘ کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ’سول ملٹری تناؤ موجود نہیں تاہم اختلاف رائے ہوسکتا ہے، معاشی عشاریے بہتری کی طرف ہیں، معیشت پر کچھ لوگوں کو گلاس آدھا خالی نظر آتا ہے لیکن

مجھے گلاس آدھا بھرا ہوا نظر آتا ہے، جبکہ آرمی چیف کو بھی معیشت پر رائے دینے کا حق حاصل ہے۔‘انہوں نے ٹیکنوکریٹس کی حکومت کی افواہوں کے حوالے سے کہا کہ’ ٹیکنوکریٹس یا قومی حکومت کے قیام سے بہتری نہیں آسکتی، تبدیلی آئین کے مطابق آنی چاہیے ورنہ ملک کا نقصان ہوگا، جس کہ کسی کو اگر مجھ سے اختلاف ہے تو ایوان میں تحریک عدم اعتماد لے آئے۔‘سابق وزیر اعظم نواز شریف کی نااہلی کے سوال پر شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ’اقامہ پر نواز شریف کو نااہل قرار دینے کی وجہ کسی کو سمجھ نہیں، تاریخ فیصلہ کرے گی کہ نواز شریف کو کیوں نکالا جبکہ ذوالفقار علی بھٹو کا فیصلہ بھی تاریخ نے قبول نہیں کیا۔‘کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی قومی اسمبلی میں متنازع تقریر سے متعلق انہوں نے کہا کہ ’کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کے خیالات کو ہر کسی نے رد کیا اور ان کی تقریر سے پارلیمنٹ میں کسی ایک رکن نے بھی اتفاق نہیں کیا۔‘پارٹی میں فارورڈ بلاک کی افواہوں کے حوالے سے وزیر اعظم نے کہا کہ ’فارورڈ بلاک ماضی میں بھی بنتے رہے ہیں لیکن سب کو معلوم ہے کہ فارورڈ بلاکس کا کیا انجام ہوتا ہے جبکہ فارورڈ بلاک بنانے والے اپنے ماضی پرنظر ڈالیں۔ان کا کہنا تھا کہ ’احتساب عدالت کے باہر بدنظمی کی رپورٹ سامنے آنی چاہیے، کسی کو عدالت کا استحاق مجروح کرنے کا حق نہیں، وکلا کو عام لوگوں سے زیادہ عدالتوں کا احترام کرنا چاہیے جبکہ اگر احتساب عدالت کے جج چاہیں تو رینجرز کو بلا سکتے ہیں۔‘

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…