منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

کرم ایجنسی دھماکے میں شہید کیپٹن حسنین سپردخاک بیٹے کی شہادت پر فخر، 100بیٹے بھی ہوتے تو وطن پر قربان کرتا، شہید کے والد کا عزم بے مثال‎، فضا نعرہ تکبیر سے گونجتی رہی

datetime 16  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)کرم ایجنسی میں دہشتگردوں کی نصب کی گئی بارودی سرنگ کا نشانہ بننے والے پاک فوج کے مایہ ناز افسر کیپٹن حسنین کو ان کے آبائی علاقے ننکانہ صاحب میں سپرد خاک کر دیا گیا ۔ کیپٹن حسنین کا جسد خاکی لے کر جب پاک فوج کےجوان اور افسران ننکانہ صاحب پہنچے تو اس موقع پر پورا علاقہ امڈ آیا ، شہید کے جنازے پر پھول نچھاور کئے گئے،

نماز جنازہ میں ہزاروں افراد کی شرکت نے عجب سماں باندھ دیا۔ کیپٹن حسنین کی قبر پر بعد از تدفین آرمی چیف اور صدر مملکت کی طرف سے قبر پر پھول چڑھائے گئے۔ اس موقع پر شہید کے والد نے بلند ہمت اور عزم کا ایسا اظہار کیا کہ وہاں موجود پاک فوج کے جوان بھی شہید کے والد کی ہمت و حوصلہ اور عزم کا داد دئیے بغیر نہ رہ سکے۔ کیپٹن حسنین کے تابوت کو جیسے ہی جوانوں نے گاڑی سے اتار کر اپنے کاندھوں پر رکھا شہید کے والد نے اس موقع پر تابو ت کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے شہید بیٹے کو نہ صرف سلیوٹ کیا بلکہ ان کے تابوت سے لپٹ کر بوسہ بھی دیا۔ شہید کے والد کا بیٹے کی شہادت پر کہنا تھا کہ 100 بیٹے بھی ہوتے تو تووہ بھی وطن پر قربان کرتا، شہید کا والد بننے پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں۔جوان بیٹے کی شہادت پرماں کی آنکھیں نم تھیں، بھائیوں نے کہا حسنین ان کے لیے ہمیشہ زندہ رہیگا۔یاد رہے گذشتہ روز کرم ایجنسی میں بارودی سرنگ کے دھماکے میں کیپٹن سمیت 4 سیکورٹی اہلکار شہید جبکہ 3 زخمی ہوگئے تھے، شہید اہلکار غیرملکیوں کے اغواکاروں کی تلاش میں مصروف تھے کہ دھماکا ہوگیا۔دھماکے میں شہید ہونے والوں میں کیپٹن حسنین،سپاہی سعید باز،سپاہی قادراورسپاہی جمعہ خان شامل تھے جبکہ سپاہی ظاہر،نائیک انور اورلانس نائیک شیر افضل زخمی ہوئے ۔خیال رہے کہ دوروز قبل پاک فوج نےانٹیلی جنس بنیاد پرکامیاب آپریشن کے دوران کرم ایجنسی سے کینیڈین امریکن خاندان کوبازیاب کرایا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…