منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

تھامسن رائٹرز فائونڈیشن کاایک کروڑ سے زیادہ آبادی رکھنے والے 19 میگا شہروں میں خواتین کو درپیش صورت حال کا سروے

datetime 16  اکتوبر‬‮  2017 |

کراچی(این این آئی)برطانیہ میں قائم تھامسن رائٹرز فائونڈیشن نے ایک کروڑ سے زیادہ آبادی رکھنے والے 19 میگا شہروں میں خواتین کو درپیش صورت حال کا سروے کرایاہے،جس کے مطابق صحت کی ناکافی سہولتیں، ثقافتی رسم و رواج میں رکاوٹ،معاشی مواقع میں کمی اور ہراساں کیے جانے کے بڑھتے

واقعات نے کراچی خواتین کے لیے دنیا کا دوسرا غیرمحفوظ شہر بن گیاہے جبکہ جنسی ہراساں کئے جانے کے واقعات نے بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کو بدترین شہر بنادیاہے۔مصر کے دارالحکومت قاہرہ کو خواتین کے لئے سب سے خطرناک شہر قرار دیا گیا ہے جبکہ لندن خواتین کے لئے محفوظ ترین شہرہے جس کے بعد ٹوکیو اور پیرس کا نمبر آتا ہے۔بھارت کے دارالحکومت میں خواتین کو جنسی ہراساں کیے جانے کے بڑھتے واقعات نے نئی دہلی کو اس فہرست میں پہلے نمبر پر لاکھڑا کیا۔تھامسن رائٹرز فاونڈیشن کے سروے میں انکشاف میں کیا گیا ہے کہ جنسی ہراساں کیے جانے کے واقعات میں اضافے نے نئی دہلی کو خواتین کے لیے بدترین شہر بنادیا۔لندن میں قائم تھامسن رائٹرز فاونڈیشن نے ایک کروڑ سے زیادہ آبادی رکھنے والے انیس میگا شہروں میں خواتین کو درپیش صورت حال کا سروے کرایا ۔سروے میں خواتین کو حاصل صحت کی سہولتیں،معاشی مواقع، ثقافتی رسم و رواج اور ہراساں کیے جانے کے واقعات کا جائزہ لیا گیا۔ان شہروں میں خواتین کے امور سے

تعلق رکھنے والے ماہرین کی آرا سے یہ بات سامنے آئی کہ پاکستان کا سب سے بڑا شہر کراچی خواتین کے لیے دوسرا غیرمحفوظ شہر ہے ۔تھامسن رائٹرز فائونڈیشن کے سروے کے مطابق کراچی میں خواتین کو صحت کی بنیادی سہولتیں حاصل نہیں ، یہاں خواتین کو معاشی میدان میں بھی رکاوٹوں

کاسامنا رہا ہے۔کم عمری کی شادی اور ثقافتی رسم و رواج میں رکاوٹ کے معاملے میں کراچی دوسرابدترین شہر قرار پایا،جنسی ہراساں کیے جانے کے واقعات میں کراچی کا نمبر نواں رہا۔سروے میں لندن خواتین کے لیے محفوظ ترین شہر قرار پایا جبکہ مصر کے دارالحکومت قاہرہ کو خواتین کے لیے بدترین شہر قرار دیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…