منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

ملک کو ترقی کی جانب گامزن کرنا ہے تو فوراََ یہ کام شروع کر دیں، ڈاکٹر قدیر کا اہم ترین مشورہ

datetime 16  اکتوبر‬‮  2017 |

لاہور( این این آئی) ممتاز ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کہا ہے کہ معیشت کی ترقی اور استحکام کیلئے قدرتی وسائل پر انحصار بڑھانے کی قومی پالیسی مرتب کی جائے ،دنیا کا مقابلہ کرنے کیلئے ہمیں تعلیم اور ریسرچ کے شعبوں میں انقلاب برپا کرنا ہوگا ۔ ایک انٹر ویو میں انہوں نے کہا کہ پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال ملک ہے لیکن بد قسمتی سے ان سے استفادہ کرنے کی طرف توجہ دی گئی ہے اور نہ ہی کوئی پالیسی

بنائی گئی ۔ آج بھی اس طرف توجہ دے کر پائید ار معیشت کا حصول ممکن بنا سکتے ہیں ۔ ڈاکٹر عبد القدیر خان نے کہا کہ تعلیم کے شعبے کا بجٹ اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہے اس میں خاطر خواہ اضافہ نا گزیر اور اس کے ساتھ ساتھ ریسرچ پر بھی توجہ مرکوز کی جائے۔ انہوں نے ملک کے عدالتی نظام میں مزید بہتری پر زور دیا۔ڈاکٹر عبدالقدیر نے کہا کہ ملک میں ہنر مند افراد کی کمی نہیں لیکن سیاست دانوں نے اس ملک کو برباد کر دیا ہے۔انہوں نے ملک میں نئی، پڑھی لکھی اور ذمہ دار قیادت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے نوجوانوں کو پیغام دیا کہ وہ ووٹ دے کر ذمہ دار اور پڑھی لکھی قیادت کوآگے لائیں۔ڈاکٹر عبدالقدیر نے مزید کہا کہ کسی بھی ملک کی ترقی کا دارو مدآر ٹیکنوکریٹس کے ہاتھوں میں ہے، مگر افسوس ہے کہ پاکستان میں انہیں مواقع فراہم نہیں کیے جاتے۔ان کا کہنا تھا کہ ملک سے مشکلات اس وقت تک ختم نہیں ہو سکتیں جب تک عوام صحیح قیادت کو سامنے نہیں لاتے اور تعلیم کو عام نہیں کیا جاتا۔انہوں نے کہا کہ ملک نے محدود وسائل اور کسی بھی بیرونی مدد کے بغیر ایٹمی توانائی پیدا کی تو کوئی وجہ نہیں کہ پاکستان دنیا کے دیگر ممالک کی طرح ترقی کی منزلیں طے نہ کر سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…