منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

ملک بھر میں پٹرول کی شدید قلت کا خدشہ،صورتحال قابو سے باہر ہوگئی

datetime 15  اکتوبر‬‮  2017 |

لاہور( این این آئی )ملک کی سب سے بڑی آئل مارکیٹنگ کمپنی پاکستان اسٹیٹ آئل نے کہا ہے کہ اس کی واجب الوصول رقم مسلسل اضافے کے ساتھ 302 ارب روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔ ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق پی ایس او کی جانب سے وفاقی حکومت کو آگاہ کیا گیا ہے کہ گزشتہ برس 12 اکتوبر کو کمپنی کے گردشی قرضے 248 ارب روپے تھے جو رواں ماہ کی اسی تاریخ کو بڑھ کر 302 روپے ہو چکے ہیں۔

پی ایس او حکام نے رپورٹ میں مالی مشکلات کا تذکرہ کرتے ہوئے حکومت کو آگاہ کیا کہ پاور جنریشن کمپنیوں پر 267 ارب روپے واجب الادا ہیں جو کل واجب الوصول رقم کا 88 فیصد ہے جبکہ گزشتہ برس پاور جنریشن کمپنیوں نے 214 ارب روپے سرکاری آئل کمپنی کو اداکرنے تھے جو کل واجب الوصول رقم کا 87 فیصد تھا۔پی ایس او کے گردشی قرضے کی سب بڑی وجہ پبلک سیکٹر سے عدم ادائیگی ہے۔ 10 اکتوبر تک گردشی قرضہ 158 ارب ہے جو گزشتہ برس 135 ارب تھا۔رپورٹ کے مطابق پی ایس او کو واجبات کی ادائیگی کے حوالے سے حب پاور کمپنی 75 ارب روپے، کوٹ ادو تھرمل کمپنی 34 ارب روپے، پاکستان انٹری نیشنل ایئر لائن 25 ارب اور ایل این جی کی مد میں سوئی ناردرن گیس پائپ لائن لمیٹڈ 10 ارب کی مقروض ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاور سیکٹر کی جانب سے عدم ادائیگی کے باعث پی ایس او بھی بین الااقوامی اور مقامی کمپنیوں کی 87 ارب کی مقروض ہوچکی ہے۔اس حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا کہ پی ایس او 71 ارب روپے کویتی پٹرولیم، قطر گیس اور ایل این جی سپلائیرز کو ادا کرنے کی پابند ہے جبکہ 16 ارب روپے مقامی ریفائنریز کو دینے ہیں۔پی ایس او حکام نے رپورٹ میں متنبہ کیا کہ اگر تیل کمپنی کو واجبات کی ادائیگی بروقت ممکن نہیں ہوئی تو ملک میں تیل کی ترسیل کا شدید بحران پیدا ہو سکتا ہے

کیونکہ حالیہ ماہ میں پیٹرولم کی ترسیل میں کمی کی وجہ کیش فلو کی رکاوٹ ہی تھی۔واضح رہے کہ پی ایس او کے اعلی عہدیدار نے رپورٹ پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے یہ کہنے پر اکتفا کیا کہ پی ایس او واجبات کی ادائیگی کے لیے وزارت توانائی، وزارت خزانہ، پی آئی اے اور ایس این جی پی ایل سے مسلسل رابطے میں ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اتنی بڑی تعداد میں عدم وصولی کے باوجود پی ایس او ملک بھر میں پیٹرولم کی ترسیل پوری کرنے کی کوشش کررہی ہے تاہم بعض اوقات کمپنی کو مختصر قلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…