پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

کم سن لڑکیوں کی منڈی، بوڑھے عرب شیخوں کی لائنیں لگ گئیں,وہ علاقہ جہاں چندہزار روپے میں لڑکی خریدی جاسکتی ہے

datetime 14  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) مسلمانوں کے اکثریتی بھارتی شہر حیدرآمد میں گھنائونا کاروبار ، بوڑھے عرب باشندوں سے کم سن مسلمان لڑکیوں کی شادیاں، بوڑھا عرب شیخ 80ہزار روپے والدین کو لڑکی کے عوض ادا کرتا ہے، پولیس کا مخبر بن جانیوالے بروکر کے سنسنی خیز انکشافات۔ بھارتی اخبار انڈیا ٹائمز کی ایک رپورٹ میں حاجی خان نامی بروکر کے سنسنی خیز انکشافات پر

مبنی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بوڑے عرب شیخ عیاشی کیلئے بھارت کے شہر حیدر آباد کا رخ کرتے ہیں جہاں وہ کم سن لڑکیوں سے شادیاں رچاتے ہیں اور بھارت سے جانے سے پہلے اپنی دلہن کو طلاق دے دیتے ہیں۔ حاجی خان جو کہ اب پولیس کا مخبر بن چکا ہے نے انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ عرب باشندے بھارتی لڑکیوں سے دو طرح کی شادی کرتے ہیں ایک عارضی اور ایک مستقل مگر ان میں زیادہ تر عارضی ہی ہوتی ہیں۔ یہ عرب باشندے اپنے ساتھ استعمال شدہ عروسی لباس، صابن اور رات کو پہننے والے کپڑے لے کر آتے اور ان میں سے زیادہ تر ٹائم پاس شادیاں ہی کرتے ہیں اور شادی کے وقت ہی بعد کی کسی مقررہ تاریخ کے طلاق نامے پر بھی دستخط کر دیتے ہیں۔ جب وہ لوگ بھارت چھوڑ کر چلے جاتے، تب ہم یہ طلاق نامہ ان لڑکیوں کو دے دیتے ہیں۔یہ تمام شادیاں مسلمان نکاح خواں اور قاضی کرواتے ہیں جو بوقت ضرورت پیسوں کے عوض لڑکیوں کی عمر بھی زیادہ لکھ دیتے ہیں کیونکہ اکثر لڑکیاں کم سن ہوتی ہیں اور ابھی شادی کی قانونی عمر کو نہیں پہنچی ہوتیں۔ان لڑکیوں میں سے اکثر کو یہ بھی علم نہیں ہوتا کہ شادی کے 15سے 20دن بعد انہیں طلاق ہو جائے گی۔ مستقل شادی میں عرب شہری دلہن کو اپنے ساتھ لے جاتےہیں۔حاجی خان کے مطابق عرب شہری کے رابطہ کرنے پر بنکاک کے قحبہ خانوں

کی طرح ہوٹل میں 20سے 30لڑکیاں قطار میں کھڑی کر دی جاتی تھیں اور وہ ان قطار میں کھڑی لڑکیوں میں سے کسی کو بھی منتخب کرلیتا تھا۔ جبکہ باقی لڑکیوں کو منہ دکھائی کے طور پر معمولی رقم دے کر واپس گھر بھیج دیا جاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…