منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

آٹھ شادیاں رچانے والی دوشیزہ کا گردہ فروش گروپ سے تعلق، شادی کے درجن سے زائد دعویدار سامنے آ گئے، چالباز حسینہ کے بارے میں حیران کن انکشافات

datetime 12  اکتوبر‬‮  2017 |

سرگودھا (مانیٹرنگ ڈیسک) آٹھ شادیاں رچا کر لوگوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے والی چالباز دوشیزہ ثناء بی بی کے متعلق ابتدائی پولیس تفتیش کے بعد انکشاف ہواہے کہ ثناء بی بی کے خاندان کا تعلق انسانی اعضاء گردوں کی فروخت سے دنیابھر میں شہرت پانیوالے علاقہ کوٹمومن سے ہے۔ جہاں غربت کے ہاتھوں تنگ آکر کئی افراد اپنے گردے فروخت کرنے پر مجبورہیں۔ ثناء بی بی کے متعلق پولیس نے بتایا کہ اس کے والدین کا تعلق مسلم شیخ خاندان سے ہے۔

چند سال قبل اس کے والد عمر حیات وفات پاگیا۔ جس کی وفات کے بعد غربت سے تنگ آکر اس کی والدہ شمیم بی بی نے ربنواز نامی شخص کے ساتھ مل کر اپنی بیٹی ثناء ، اس کی چھوٹی بہن اور بھائی سمیت گردے فروخت کرنے کیلئے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور راولپنڈی چلے گئے جہاں حکومت کی طرف سے اس مکروہ دھندہ کیخلاف کارروائی کے خوف سے ان لوگوں نے غربت کے ہاتھوں مجبور ہو کر عصمت فروشی اور شادی کا جھانسہ دے کر لوگوں کو لوٹنے کا منصوبہ بنایا اور سرگودہا آکر اس دھندہ میں دیگر خواتین اور مرد حضرات کو شامل کرکے چھ ماہ کے دوران کئی افراد کو لوٹا اس دوران اس گینگ نے ثناء کی یکے بعد دیگرے آٹھ مختلف افراد سے شادیاں رچائیں اور ان افراد سے لاکھوں کی نقدی ، طلائی زیورات اور دیگر قیمتی سامان لوٹ لیا۔ رپورٹ کے مطابق اس امر کا انکشاف چک 118 شمالی کے اللہ دتہ نامی شخص نے تھانہ اربن ایریا میں تحریری درخواست دیتے ہوئے کیا۔ جس پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے دوشیزہ ثناء بی بی کو گینگ کے سرغنہ ربنواز سمیت گرفتار کرکے جیل بھیج دیا۔ اس سلسلہ میں رابطہ کرنے پر پولیس نے بتایا کہ اس گھناؤنے جرم میں ایک مولوی اور مقامی وکیل بھی شامل ہیں، کو جلد گرفتار کرلیا جائے گا۔ اس گروہ نے مولوی سراج الحق اور ضلع کچہری کے بعض لوگوں سے مل کر بازار سے نکاح پرت (رجسٹرڈ) خریدا جو کہ کھلے عام فروخت ہوتا ہے۔ اس کے ذریعے جعلی نکاح نامے تیار کئے جاتے ہیں۔

جن کا کسی یونین کونسل میں کوئی ریکارڈ نہ ہے۔ پولیس کے مطابق اس وقت تک ثناء سے شادی کے دعویدار ایک درجن سے زائد افراد منظر عام پر آگئے ہیں۔ جنہیں اپنے اپنے تھانوں میں اندراج مقدمہ کی ہدایت کی ہے۔ اس ضمن میں تھانہ فیکٹری ایریا اور صدر میں اندراج مقدمہ کی درخواستیں جمع ہوچکی ہیں پولیس کے متعلق اس گروہ کے مزید افراد کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جارہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…