اتوار‬‮ ، 08 فروری‬‮ 2026 

پاکستان میں جمہوریت فلم میں انٹرویل کی طرح آتی ہے، ہم اپنی شہ رگ 4 بار کاٹ چکے ہیں اس لیے جسم تڑپ رہا ہے، رضا ربانی کے انکشافات

datetime 12  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )چئیرمین سینٹ میاں رضا ربانی نے کہا ہے کہ پاکستان میں جمہوریت بھی فلم میں انٹرویل کی طرح آتی ہے ۔ لوگ انٹرویل میں کوک کے کریٹ اٹھا کر گھومتے ہیں اور کھاتے پیتے ہیں ۔ ہم کٹے ڈور کی پتنگ کی ہوا میں بھٹکتے پھرتے ہیں۔ آج 70سال گزرجانے کے باوجود بھٹکے ہوئے ہیں ۔آج دن تک اپنا راستہ ڈھونڈ رہے ہیں ۔ ملک میں ہم نے تاریخی واقعات اور ماضی کے ہیروز کا احترام نہیں کیا۔

ریا ست نے خود ادیبوں ، طالب علموں اور مزدور کو نظر انداز کیا اور آج ہم نئے نظریئے کی بات کرتے ہیں ، ملک میں نظریہ منڈیوں اور راولپنڈی میں بیٹھ کر نہیں آئے گا۔ ان خیالات کا اظہار چیئرمین سینٹ نے مشہور شاعر وادیب او ر دل دل پاکستان نغمے کے خالق نثار ناسک کو نیشنل پریس اسلام آبادکی جانب سے خراج تحسین پیش کرنے کی تقریب میں کیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے رضاربانی نے کہا کہ پارلیمان ریاست کی شہ رگ ہے اور اگر ہم اپنی ہی شہ رگ کو کاٹیں گے تو جسم تڑپتا رہے گا ، ہم اپنی شہ رگ کو4بار کاٹ چکے ہیں اس لیے جسم تڑپ رہا ہے۔ہر طرح کے بیرونی اور اندرونی چیلنجز سے مقابلہ کرنے کے لیے پارلیمان کو اپنا کردار ادا کرناہو گا اور اپنی کی گئی غلطیوں اور کوتاہیوں کو درست کرنے ہوگا۔ آج ملک میں اداروں کو تباہ کردیا گیا ۔آئین کو مضبوط نہیں ہونے دیا گیا ۔ہر دس سال بعد ملک میں انٹرویل آتی تھی اور پھر جمہوریت کی فلم چلتی تھی ۔چیئر من سینٹ نے مزید کہا کہ ادیب ،طلبہ ،مزدور ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں۔ آج جس مقام میں ہمارا معاشرہ اور ریاست کھڑی ہے اسکی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ بد قسمتی سے ریاست نے شعوری فیصلہ کیا کہ ہم اپنی تاریخ ، اپنی جدو جہد ، اپنے ادیبوں ومحسنوں جن کی وجہ سے یہ ملک بنا ، جن کی وجہ سے ملک میں جمہوریت آئی ہم ان سے قطع تعلق ہوجائیں اور نثار ناسک ،حبیب جالب ،فیض احمد فیض اور جون ایلیا جیسے لوگوں کو بھلا دیا۔ ہم نے اپنی ماضی ، ثقافت کو کاٹ ڈالا اور افسوس ہے کہ یہ فیصلہ ریا ست کا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایوب خان کے دور میں جب انقلاب آیا تو پاکستان کی اشرفیہ نے بیٹھ کر اس بات کا جائزہ لیا کہ وہ کون سے عوامل ہیں جس نے ایوب اقتدارکی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ 22 خاندانوں میں علم بغاوت پیدا کردیا ۔ تب اشرفیہ نے نثار ناسک جیسے ادیبوں، پروگریسو طلبہ یونینز ،اور مزدور تنظیموں کو ختم کر کے رکھ دیا گیا ۔ کالجوں اور درسگاہوں میں مذہبی انتہا پسند طلباء تنظیموں کو کھلی چھٹی دی گئی

جسکا نتیجہ آج ہم دیکھ رہے ہیں آج ملک میں کہا جاتا ہے کہ درسگاہوں سے انتہا پسند نکل رہے ہیں توہم اس با ت کو تسلیم کرنا چاہیے کہ یہ بیج بھی ریاست کا ڈالا ہوا ہے اور ضیاء الحق کے دور میں کیا گیا تھا ۔ چیئر مین سینٹ نے مزید کہا کہ ہمیں اداروں کو مضبوط کرنا ہو گا اور معاشرے میں نثار ناسک جیسے لوگوں کو ان کا مقام دینا ہوگا تب ہی ہم ایک مہذب معاشرہ تشکیل دے سکیں گے۔ تقریب میں شاعر نثار ناسک بھی موجود تھے

اور انہوں نے اپنے مشہور اشعار شرکاء کو سنائے اور نیشنل پریس کلب اسلام آباد کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے ادیبوں کو مدعوں کیا انکی حوصلہ افزائی کی ۔ تقریب میں نیشنل پریس کلب کے صدر شکیل انجم نے نثار ناسک کو ایک لاکھ روپے بھی دیئے اور چئیر مین سینٹ نے پرائڈ آف پاکستان کا ایورڈ دیا۔ تقریب میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس صدر افضل بٹ سمت سماجی و صحافتی برادری کی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔



کالم



بٹرفلائی افیکٹ


وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…