منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان میں فوری انتخابات ، سیکرٹری الیکشن کمیشن نے اہم اعلان کر دیا

datetime 12  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)سیکرٹری الیکشن کمیشن بابر یعقوب فتح محمد نے واضح کیا ہے کہ الیکشن کمیشن ملک میں فوری انتخابات کے انعقاد کا متحمل نہیں ہو سکتا، عام انتخابات سے پہلے نئی حلقہ بندیوں کا فیصلہ الیکشن کمیشن کرے گا، آئندہ عام انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں اور بائیو میٹرک سسٹم کا استعمال تجرباتی بنیادوں پر ہی ہو گا۔ جمعرات کو الیکشن کمیشن میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 4 پشاور میں تجرباتی بنیادوں پر استعمال کے حوالہ سے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے سیکرٹری

الیکشن کمیشن نے بتایا کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے سو فیصد نتائج سامنے آئے تو اس کی رپورٹ پارلیمنٹ کو پیش کریں گے، پارلیمنٹ نے ان مشینوں کے استعمال کو قانونی تحفظ دینے کا قانون بھی بنانا ہے، ابھی تک انتخابی ایکٹ 2017ء میں اسے یہ قانونی تحفظ حاصل نہیں، اس قانون میں کہا گیا کہ یہ استعمال تجرباتی بنیادوں پر کیا جائے گا، ان مشینوں کے استعمال کیلئے پریزائیڈنگ افسروں کو خصوصی تربیت دی جائے گی، دنیا کے جن ممالک میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کا استعمال کیا جا رہا ہے ان کے ساتھ ہمارے ملک میں استعمال ہونے والی مشین مماثلت نہیں رکھتی، اس مشین سے جعلی ووٹنگ کا امکان ختم کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ عام انتخابات میں مقناطیسی سیاہی کا جس طرح بڑھ چڑھ کر اعلان کیا گیا آئندہ اس طرح کے دعوؤں سے گریز کریں گے، لاہور کے حلقہ این اے 120 میں بائیو میٹرک مشینوں کا سو فیصد استعمال نہیں ہو سکا ٗ12 فیصد ووٹروں کی شناخت کا مسئلہ تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ الیکٹرانک مشینیں ہالینڈ سے درآمد کی گئی ہیں، ایک مشین پر 2 لاکھ تک اخراجات آئے ہیں۔ سیکرٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہ جن ممالک نے الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں اور بائیو میٹرک سسٹم استعمال کیا وہ اب واپس عام سسٹم پر آ رہے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ اسی وقت جدید سسٹم کی طرف جائیں جب سو فیصد نتائج سب کیلئے قابل قبول ہوں۔

انہوں نے کہا کہ انتخابی قانون 2017ء کے تحت انتظامات کیلئے الیکشن کمیشن کو وقت درکار ہو گا، بیلٹ پیپر کیلئے جس کاغذ کو درآمد کیا جانا ہے اس پر آنے والے اخراجات بھی زیادہ ہوں گے۔ الیکشن ایکٹ کے تحت بہت سارے نئے امور کا تعین کیا گیا ہے، واٹر مارک بیلٹ پیپرز درآمد کیا جانا ہے، اس کیلئے وزارت خزانہ کو لکھا ہے، اس کاغذ کی درآمد تک انتخابات کیلئے تیار رہنے کی باتیں قبل ازوقت ہوں گی، الیکشن کمیشن اپنی آئینی ذمہ داریوں کو ہر قیمت پر پورا کریگا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نئی انتخابی حلقہ بندیوں کیلئے حکومت کو تحریری طور پر آگاہ کیا کہ مردم شماری کی عبوری رپورٹ کو شائع کیا جائے گا، اس کا جواب جلد ملنے کی توقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے پارلیمانی کمیٹی کو درخواست کی تھی کہ انتخابات سے متعلق تمام فارمز بشمول حلف نامہ الیکشن کمیشن کے رولز کا حصہ رہنے دیا جائے تاہم پارلیمانی کمیٹی نے ان فارمز کو الیکشن ایکٹ کا حصہ بنا دیا۔

انہوں نے کہا کہ این اے 4 میں سیکورٹی کی ذمہ داریاں پاک فوج کے حوالہ کرنے کا سیاسی جماعتوں نے مطالبہ کیا ہے، ہم پاک فوج کے مشکور ہیں کہ جب بھی انتخابی عمل میں مدد کیلئے ان سے معاونت کی درخواست کی تو انہوں نے اس کو پورا کیا اور بہترین سیکورٹی انتظامات یقینی بنائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…