منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

کتنے نجی صارفین سولر سسٹم سے ذاتی استعمال کے علاوہ اضافی بجلی پیدا کر رہے ہیں، صارفین اب بجلی بیچ بھی سکیں گے، نیپرا نے تفصیلات سے آگاہ کر دیا

datetime 12  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )سینٹ اسٹینڈنگ کمیٹی برائے کیبنٹ سیکرٹریٹ کو بتایا گیا ہے کہ نیپرا ایکٹ کا مسودہ تیار ہو کر نیشنل اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی میں جا چکا ہے ۔نئے مرتب شدہ ایکٹ کے نا فذ العمل ہونے کے بعد نجی صارفین بغیر لائیسنس کے گھر وں میں سولر کے ذریعے بجلی پیدا کر کے خود کے استعمال کے علاوہ قیمت پر بیچ بھی سکیں گے ۔صرف وفاقی دارلحکومت میں اس وقت 74نجی صارفین ذاتی سولر سسٹم

سے ذاتی استعمال کے علاوہ اضافی بجلی پیدا کر رہے ہیں۔ملک بھر میں کام کرنے والی 10ڈسکوز بجلی کی تقسیم 85فیصد نجی صارفین،28فیصد انڈسٹری جبکہ ایک فیصدزرعی ریٹوں پر یقینی بنا رہی ہیں ۔اس وقت ملک میں نیپرا کی طرف سے مقرر کردہ بجلی کا ٹیرف 12روپے 33پیسے فی یونٹ ہے ۔جو  حکومت11 روپے45 پیسے فی یونٹ کے حساب سے خود سے ایک فیصد زائد سبسڈی ڈالنے کے بعد عوام الناس کو فراہم کر رہی ہے ۔کمیٹی کا اجلاس چیئر مین سینیٹرطلحہ محمود کی زیر صدارت پارلیمنٹ لاجر میں منعقد ہوا ۔کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے چیئرمین نیپرا نے بتایا کہ نیپرا بنیادی طورپر ریگولیٹری ادارہ ہے۔جو لائن لاسز اور بجلی چوری میں ملوث صارفین کو سزا دینے کا اختیار نہیں رکھتا ۔بطور ریگولیٹری باڈی نیپرا چوروں اور برائیوں کی نشاندہی تو کرتا ہے لیکن اختیارات نہ ہونے کے سبب تاحال غیر قانونی عمل میں ملوث تنبہیہ اور جرمانے کے علاوہ کو سزا دینے کا اہل نہیں ۔اس وقت ملک میں70فیصدلوگ 300یونٹ ماہانہ سے کم استعمال کر رہے ہیں ۔جنہیں حکومت سبسڈائیزریٹوں پر بجلی فراہم کر رہی ہے۔اس وقت ملک بھر میں سب سے زیادہ لائن لاسز اور بجلی چوری کے کیسز سکھر میں 38فیصد اور فیسکومیں34فیصد ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…