اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )سینٹ اسٹینڈنگ کمیٹی برائے کیبنٹ سیکرٹریٹ کو بتایا گیا ہے کہ نیپرا ایکٹ کا مسودہ تیار ہو کر نیشنل اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی میں جا چکا ہے ۔نئے مرتب شدہ ایکٹ کے نا فذ العمل ہونے کے بعد نجی صارفین بغیر لائیسنس کے گھر وں میں سولر کے ذریعے بجلی پیدا کر کے خود کے استعمال کے علاوہ قیمت پر بیچ بھی سکیں گے ۔صرف وفاقی دارلحکومت میں اس وقت 74نجی صارفین ذاتی سولر سسٹم
سے ذاتی استعمال کے علاوہ اضافی بجلی پیدا کر رہے ہیں۔ملک بھر میں کام کرنے والی 10ڈسکوز بجلی کی تقسیم 85فیصد نجی صارفین،28فیصد انڈسٹری جبکہ ایک فیصدزرعی ریٹوں پر یقینی بنا رہی ہیں ۔اس وقت ملک میں نیپرا کی طرف سے مقرر کردہ بجلی کا ٹیرف 12روپے 33پیسے فی یونٹ ہے ۔جو حکومت11 روپے45 پیسے فی یونٹ کے حساب سے خود سے ایک فیصد زائد سبسڈی ڈالنے کے بعد عوام الناس کو فراہم کر رہی ہے ۔کمیٹی کا اجلاس چیئر مین سینیٹرطلحہ محمود کی زیر صدارت پارلیمنٹ لاجر میں منعقد ہوا ۔کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے چیئرمین نیپرا نے بتایا کہ نیپرا بنیادی طورپر ریگولیٹری ادارہ ہے۔جو لائن لاسز اور بجلی چوری میں ملوث صارفین کو سزا دینے کا اختیار نہیں رکھتا ۔بطور ریگولیٹری باڈی نیپرا چوروں اور برائیوں کی نشاندہی تو کرتا ہے لیکن اختیارات نہ ہونے کے سبب تاحال غیر قانونی عمل میں ملوث تنبہیہ اور جرمانے کے علاوہ کو سزا دینے کا اہل نہیں ۔اس وقت ملک میں70فیصدلوگ 300یونٹ ماہانہ سے کم استعمال کر رہے ہیں ۔جنہیں حکومت سبسڈائیزریٹوں پر بجلی فراہم کر رہی ہے۔اس وقت ملک بھر میں سب سے زیادہ لائن لاسز اور بجلی چوری کے کیسز سکھر میں 38فیصد اور فیسکومیں34فیصد ہیں ۔