ہفتہ‬‮ ، 06 جون‬‮ 2026 

قادیانیوں کے بارے میں ریمارکس پر معروف صحافی کا شدید ردعمل، کیپٹن (ر) صفدر کے سسر نواز شریف نے ’’ڈاکٹر عبدالسلام‘‘ کیلئے کیا کیا تھا؟ حیرت انگیز انکشاف

datetime 11  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) قادیانیوں کے بارے ریمارکس پر معروف صحافی وسعت اللہ کا ردعمل، تفصیلات کے مطابق معروف صحافی وسعت اللہ نے کہاکہ ڈاکٹر عبدالسلام کو نوبل پرائز فزکس پر ملا، کسی مذہبی تبلیغ پر نہیں ملا، فزکس ایک سیکولر مضمون ہے اور فزکس کی دنیا میں 99 فیصد لوگ کفار ہیں، انہوں نے کہا کہ کیپٹن (ر) صفدر کے بچے جب اعلیٰ تعلیم کے لیے بیرون ملک یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے گئے ہوں گے

تو وہاں ان کے ٹیچر کتنے مسلمان ہوں گے اور اگر وہ مسلمان نہیں تو آپ اپنے بچوں کو کیوں پڑھوا رہے ہیں آپ کو تو خدشہ ہے کہ وہ بگڑ سکتے ہیں، دوسری بات یہ ہے کہ اس انسٹی ٹیوٹ کے نام کی منظوری ان کے سسر نے دسمبر 2016 میں دی، نہ صرف نام کی منظوری دی بلکہ اس انسٹی ٹیوٹ کے نام پر پانچ پی ایچ ڈی سکالر شپس بھی منظور کیں۔ سینئر صحافی نے کہا کہ اس کے فوراً بعد پہلا ردعمل اسلامی نظریاتی کونسل کے سربراہ مولانا شیرانی کا آیا تھا، انہوں نے کہا کہ یہ عجیب بات ہے ایسا نہیں ہونا چاہیے، اب معاملہ یہ ہے کہ تاریخ سے مثالیں دوں تو بڑا عجیب سا لگے گا، انہوں نے کہا کہ میں جانا چاہتا ہوں چودہ سو سال پہلے حضورؐ کے دور میں غزوہ بدر میں کفار کو شکست ہوتی ہے اور کافی گرفتار بھی ہو جاتے ہیں، تو ان گرفتار کفار کو کہا گیا کہ آپ میں ہر ایک دس دس مسلمان بچے پڑھائے تو آپ کو رہا کر دیا جائے گا، اب کفار مسلمانوں کے بچے پڑھا رہے ہیں تو اس وقت یہ خدشہ تو ہونا چاہیے تھا کہ معصوم ذہنوں کو آلودہ کر سکتے تھے اور کفار کو اسلام کی الف ب بھی نہیں پتہ تھی تو ظاہر ہے کہ وہ دنیاوی تعلیم پڑھا رہے ہوں گے اسلامی نہیں، سینئر صحافی نے کہا کہ کم از کم ڈاکٹر عبدالسلام کا مسلک احمدی سہی یا قادیانی سہی، ان کی وجہ شہرت ماہر طبیعات کے طور پر ہے، نوبل پرائز انہیں قادیانی ہونے کی وجہ سے نہیں ملا، انہوں نے تھیوری پیش کی،

اس کی بنیاد پر نوبل انعام دیا گیا، انہوں نے کہا کہ یہ آدمی پوری زندگی کوشش کرتا رہا، ڈاکٹر عبدالسلام نے اپنا انسٹی ٹیوٹ اٹلی میں بنایا، اس انسٹی ٹیوٹ میں ڈاکٹر عبدالسلام نے پاکستانی طلبہ کے لیے مخصوص کوٹہ رکھا تاکہ وہ فزکس کی تعلیم حاصل کر سکیں، نتھیاگلی میں سمر کالج جو ہے وہ اس کو باقاعدگی سے آرگنائز کرتے تھے، ماہرین طبیعات کی جو موجودہ نسل ہے ان میں سے بیشتر ڈاکٹر عبدالسلام کی شاگرد ہے، ان کے شاگرد ہونے کی وجہ سے ان کی بھی چھان بین ہونی چاہیے کہ ان کے عقائد بھی خراب تو نہیں ہوئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…