منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان کی سلامتی کو سب سے بڑا خطرہ،آرمی چیف نے خبردارکردیا،فوج کیوں مجبور ہوگئی؟حکومت کیوں خاموش ہے اور فوج کیا سوچ رہی ہے؟جاوید چوہدری کاتجزیہ‎

datetime 11  اکتوبر‬‮  2017 |

2004ءمیں کنفیشنز آف اکنامک ہٹ مین کے نام سے ایک حیران کن کتاب مارکیٹ میں آئی تھی‘ یہ کتاب بوسٹن کی ایک انجینئرنگ کنسلٹنگ فرم کے ایک سابق ملازم جون پرکنز کے اعترافات پر مبنی تھی‘ جون پرکنز نے کتاب میں انکشاف کیا‘ دنیا میں اب ملکوں کو ہتھیاروں اور جنگوں سے تباہ نہیں کیا جاتاانہیں معاشیات یا اکانومی کے ذریعے تباہ کیا جاتا ہے‘ آپ کسی ملک کی برآمدات کم کر دیں‘ درآمدات بڑھا دیں‘ فیکٹریاں بند کر دیں‘ قرضوں کے بوجھ میں اضافہ کر دیں‘ سٹاک ایکس چینج تباہ کر دیں اور کرنسی کی ویلیو کم کر دیں وہ ملک دفاعی لحاظ سے کتنا ہی بڑا اور مضبوط کیوں نہ ہو وہ سسک سسک کر ختم ہو جائے گا۔

یہ فلاسفی سو فیصد درست ہے‘ ہم روز کھلی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں ملک اگر معاشی لحاظ سے مضبوط ہو تو یہ دفاعی لحاظ سے بھی مضبوط ہو جائے گا اور اگر یہ معاشی سطح پر نیچے جا رہا ہے تواس کی دفاعی مٹھی بھی کھلتی چلی جائے گی‘ آپ سوویت یونین کی مثال لے لیجئے‘اس کے پاس دنیا کی سب سے بڑی فوج تھی اور دنیا میں سب سے زیادہ ایٹمی ہتھیار تھے لیکن جب یہ معاشی لحاظ سے کمزور ہوا تو یہ 15ممالک میں تقسیم ہو گیا‘اسے فوج اور ایٹمی ہتھیار بھی بچا نہ سکے‘ آپ اس حقیقت کو ذہن میں رکھئے اوراس کے بعدآج کراچی میں آئی ایس پی آر کے سیمینار کو دیکھئے‘ یہ سیمینار معیشت اور سلامتی کے ایشو پرتھا‘ آرمی چیف جنرل باجوہ نے بھی اس میں خطاب کیا‘ واقعی سلامتی اور معیشت آپس میں جڑے ہوئے ہیں لیکن سوال یہ ہے اس ایشو پر فوج سیمینار کرانے پر کیوں مجبور ہوئی اور حکومت اس پر کیوں خاموش ہے‘ کہیں ایسا تو نہیں فوج ملک میں آنے والی معاشی بدحالی کو سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے اور یہ اس صورتحال میں بہتری چاہتی ہے‘ اگر ایسا ہے تو پھر ظاہر ہے وزیر خزانہ اسحاق ڈار پر دباﺅ بڑھ جائے گا‘انہیں اپنے مقدمات اور وزارت خزانہ دونوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑے گا‘لیکن وزیراعظم یہ حقیقت ماننے کیلئے تیار نہیں ہیں ۔آج شیخ رشید نے بھی دھمکی دے دی ۔

سوال یہ ہے کیا حکومت خود کواس گرتی ہوئی معاشی صورتحال کا ذمہ دار سمجھتی ہے‘ جی نہیں ۔حکومت معاشی صورتحال کو کیسے بہتر بنا سکتی ہے‘ کیا وزیرخزانہ کی تبدیلی سے معاشی صورتحال بہتر ہو جائے گی؟

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…