منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل رضوان اختر کا استعفیٰ جمعیت علمائے اسلام (ف) میدان میں کود پڑی، بڑا اعلان کر دیا

datetime 11  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سینٹیرز نے انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے سابق سربراہ اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے صدر لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر کی اچانک قبل از وقت ریٹائرمنٹ کے پیچھے محرکات کے حوالے سے سوالات اٹھادیے ہیں۔جمیعت علما اسلام ف کے سینیٹر حافظ حمداللہ نے اجلاس کے دوران کہا کہ ایک تجربہ کار جنرل نے کیوں وقت سے پہلے استعفی دیا ہے کوئی سیاسی جماعت ہے جو اس حوالے سے

سوال کرے، کوئی پوچھے گا کہ وقت سے پہلے استعفی دینے کی وجوہات کیا ہیں۔حافظ حمداللہ نے رضوان اختر کا نام لیے بغیر کہا کہ ایک ایسا افسر جس نے کراچی جیسے اہم علاقے میں بھی فرائض سرانجام دیے اور ایک اہم عہدے پر فائز جنرل نے کیوں استعفی دیا ہے اور کیا وجوہات ہیں کہ جنرل رضوان اختر نے ایک سال پہلے ہی استعفی دے دیا۔انھوں نے کہا کہ اس حوالے سے کوئی سوال نہیں کرے گا کیوں کہ ان کو پتہ ہے کہ اگر وہ ناراض ہوئے تو انتخابات میں پتہ نہیں کیا حال ہوگا۔پاکستان مسلم لیگ ن کے سینیٹر سلیم ضیا نے اس موقع پر کہا کہ ایک وزیر استعفی دے تو اس کے گھر کے باہر ڈیرے ڈال دیے جاتے ہیں لیکن ایک آرمی افسر استعفی دے تو کوئی سوال نہیں کرتا۔انھوں نے کہا کہ کسی میں اتنی طاقت بھی نہیں کہ اس افسر کے گھر کے باہر سے گذر سکے، کوئی پوچھ کر دکھائے۔یاد رہے کہ دوروز قبل پاکستان کی اہم ترین خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سابق سربراہ اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی (این ڈی یو) کے موجودہ صدر لیفٹننٹ جنرل رضوان اختر نے اچانک قبل ازوقت ریٹائرمنٹ لے لی تھی۔ذرائع کا کہنا تھا کہ لیفٹننٹ جنرل رضوان اختر نے اپنا استعفیٰ پاک فوج کے سربراہ جنر قمر جاوید باجوہ کو پیش کردیا ہے۔اپنے استعفے میں لیفٹننٹ جنرل رضوان اختر نے قبل از وقت ریٹائرمنٹ کی وجہ نجی معاملات کو قرار دیا تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جب بھی پاک فوج کو ان کی خدمات درکار ہوں گی تو وہ حاضر ہوں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…