پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

حامدکرزئی بالاخر جاگ گئے،امریکہ سولہ سال سے افغانستان میں کیا کررہاہے اور اب مزید کیا کرنا چاہتاہے؟انتہائی تشویشناک انکشافات

datetime 10  اکتوبر‬‮  2017 |

کابل (مانیٹرنگ ڈیسک) افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی نے افغانستان میں امریکی فوجیوں کی موجودگی کو افغا ن جنگ میں شدت، بدامنی اور عدم استحکام کا سبب قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ 16 سال گزر جانے کے باوجود امریکہ نہ تو افغانستان سے دہشتگردی ختم کر سکا ہے اور نہ ہی منشیات کی اسمگلنگ الٹا ان دونوں میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے ، امریکہ دہشتگرد گروہوں کوجنگی ساز و سامان بھیج کر افغانستان میں جنگ جاری رکھنا چاہتا ہے۔

افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی نے روسی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ اور منشیات کی اسمگلنگ کی روک تھام کے بہانے افغانستان پر امریکی فوج کی یلغار سے  دہشتگردی ختم نہیں ہوئی بلکہ اس لعنت میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ حامد کرزئی نے کہا کہ امریکہ، داعش سمیت دیگر دہشتگرد گروہوں کو اسلحے اور جنگی ساز و سامان بھیج کر علاقے میں بدامنی پھیلا کر افغانستان میں جنگ جاری رکھنا چاہتا ہے۔انھوں نے پڑوسی اور علاقائی ملکوں سے اپیل کی کہ وہ جنگ ختم کرنے میں اشرف غنی کی مدد کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…