پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

باغیوں کے ہاتھوں جنگ میں جھونکے 200 یمنی بچے جاں بحق

datetime 10  اکتوبر‬‮  2017 |

صنعاء(آن لائن)یمن میں انسانی حقوق کے اداروں نے ایک خفیہ رپورٹ جاری کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ حوثی باغیوں اور علی صالح ملیشیا کی جانب سے شمالی مغربی گورنری ’حجتہ‘ میں جنگ میں جھونکے گئے 15 سال سے کم عمر کے 200 بچے محاذ جنگ پر مارے جا چکے ہیں۔یمنی اخبارات میں شائع ہونے والی اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یمنی باغیوں نے حجتہ گورنری

کے سیکڑوں بچوں کو جنگ میں جھونکا۔ گذشتہ دو سال کے دوران آئینی حکومت کی حامی فورسز اور باغیوں کے درمیان جاری لڑائی میں کم سے کم 200 کم عمر بچے بھی لقمہ اجل بنے۔ یہ بچے باغیوں کی طرف سے جنگ کے لیے بھرتی کیے گئے تھے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ باغی گروپ بچوں کی ہلاکتوں کے اعدادو شمار کو مخفی رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ہلاکتوں کے ساتھ ساتھ سیکڑوں بچے لڑائی میں شامل ہونے کے باعث جسمانی طور پر معذور ہوچکے ہیں۔سب سے زیادہ یمنی بچوں کی ہلاکتیں حرض اور میدی کے محاذوں پر ہوئیں۔ یہ دونوں علاقے سعودی عرب کی سرحد کے قریب واقع ہیں۔ حوثی باغیوں اور سابق منحرف صدر علی عبداللہ صالح کی وفادار ملیشیا کی طرف سے بچوں کو لڑائی میں فرنٹ لائن پر رکھا جاتا۔باغیوں کے مسلسل جانی نقصان کے باعث بچوں کو آگے کیا جاتا جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں بچے جاں بحق اور زخمی ہوئے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اب بھی حوثی اور علی صالح کے حامی باغیوں کی طرف سے بڑی تعداد میں بچوں کو جنگ میں جھونک رکھا ہے۔ زیادہ تر بچے حجتہ گورنری میں مختلف محاذوں پر باغیوں کی صفوں میں شامل ہیں۔حوثیوں کے ایک سرکردہ لیڈر عبدالمجید الحوثی نے اعتراف کیا ہے کہ ان

کی جماعت بچوں کو جنگ کے لیے بھرتی کرنے کے جرم میں ملوث ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایرانی حمایت یافتہ گروپ نے ایک ہزار سے زاید یمنی بچوں کے ہاتھ سے کتاب چھین کر انہیں بندوق تھمائی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…