ہفتہ‬‮ ، 06 جون‬‮ 2026 

کئی لوگوں کو قتل کرنے کے بعد تیزاب سے لاشیں مسخ کیں، عزیر بلوچ کا اعتراف

datetime 9  اکتوبر‬‮  2017 |

کراچی(آئی این پی )لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ نے لوگوں کو قتل کرنے کے بعد ان کی لاشیں مسخ کرنے کا اعتراف کر تے ہوئے کہا ہے کہ غازی خان، شیرافضل خان اور شیراز کو قتل کرکے ان کی لاشوں کو تیزاب کے ذریعے مسخ کیا، رحمان ڈکیٹ کی ہلاکت کے بعد پیپلزامن کمیٹی کے نام پر مسلح دہشت گردی گروپ بنایا ،اپنے مذموم مقاصد کے لئے 2008 سے 2013 تک

مختلف ذرائع سے اسلحہ خریدا ۔ پیر کو سندھ ہائی کورٹ میں سینٹرل جیل کے حوالدار امین کی گمشدگی سے متعلق درخواست پر کیس کی سماعت ہوئی۔ پولیس نے لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ کااعترافی بیان اور جے آئی ٹی رپورٹ پیش کردی۔ عزیربلوچ نے اپنے بیان حلفی میں بتایا کہ اس نے 2003 میں رحمان ڈکیٹ گروپ میں شمولیت اختیار کی، رحمان ڈکیٹ کی ہلاکت

کے بعد گروپ کی کمان سنبھالی اور پھر پیپلزامن کمیٹی کے نام پر مسلح دہشت گردی گروپ بنایا۔عزیربلوچ نے اعتراف کیا کہ اپنے مذموم مقاصد کے لئے 2008 سے 2013 تک مختلف ذرائع سے اسلحہ خریدا جو مختلف افراد پشین اور کوئٹہ سے اسمگل کرکے کراچی لاتے تھے۔ اسمگل کئے گئے اسلحے کو پولیس مقابلوں، تھانوں پر حملوں، سیاسی جلسوں، مظاہروں اور دیگر تخریب

کاری کی کارروائیوں میں استعمال کیا جاتا تھا۔عزیربلوچ نے بیان میں کہا کہ پولیس افسران کی تعیناتی اور بھتہ وصولی کے لئے علیحدہ مسلح گروپس بنائے گئے تھے جس میں ملانثار، استادتاجو، سہیل ڈاڈا اور سلیم چاکلیٹ سمیت دیگر افراد کی معاونت حاصل تھی۔ لیاری گینگ وار کے سرغنہ نے اعتراف کیا کہ اس نے سینٹرل جیل کے حوالدار امین عرف لالہ کو 2011 میں بدلہ لینے کے

لئے قتل کیا جب کہ غازی خان، شیرافضل خان اور شیراز کو بھی میں نے ہی قتل کیا اور پھر ان کی لاشوں کو تیزاب کے ذریعے مسخ کردیا گیا۔ عدالت نے 6 نومبر تک ایس ایس پی سے کیس کی پیش رفت رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…