پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

اس تصویر میں موجود یہ معصوم اور خوبصورت بچی جانتے ہیں اب کہاں ہےاورساتھ کھڑا یہ شخص اس کا باپ نہیں بلکہ۔۔

datetime 7  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)تھائی لینڈ میں فیس بک لائیو پر گرل فرینڈ کی 11ماہ بیٹی کو قتل کر کے خودکشی کر لی۔ تھائی پولیس کے مطابق ووتی سان وانگتالی نامی شخص نے گرل فرینڈ سے جھگڑے کے بعد اس کی

1ماہ بیٹی کو فیس بک لائیو میں قتل کرنے کے بعد خودکشی کر لی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ بچی اور قاتل کی لاش فوکٹ کے علاقے میں بین الاقوامی ائیرپورٹ کے قریب واقع ہوٹل کے کمرے میں پائی گئی ، قاتل شخص کے دوست نے فیس بک پر ووتی سان وانگتالی کو اپنی گرل فرینڈ کی 11ماہ کی بیٹی کو قتل کرتے ہوئے دیکھا تو اس نے فوری طور پر پولیس کو اطلاع کی جس پر پولیس جب جائے وقوعہ پر پہنچی تو اس سے پہلے ہی قاتل بچی کو قتل کر کے خودکشی کر چکا تھا۔ پولیس کے تحقیقات کے مطابق ’’ووتی سان وانگتالی‘‘کا اپنی گرل فرینڈ سے جھگڑا ہوا تھا جس کے بعد اس نے یہ قدم اٹھایا تاہم یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ قتل ہونے والی بچی ’’ووتی سان وانگتالی‘‘کی بھی بیٹی تھی یا نہیں۔بے رحم قاتل نے معصوم 11سالہ بچی کو پھانسی پر لٹکایا جس سے وہ تڑپ تڑپ کر مر گئی۔ واقعہ کے بعد فیس بک انتظامیہ کی جانب سے واقعہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس طرح کے مواد کی فیس بک پر کوئی گنجائش نہیں اور اس واقعہ کی ویڈیو فیس بک سے ہٹا دی گئی ہے۔ اس واقعہ سے ایک دن قبل فیس بک کے بانی مارک زکر برگ نے ان اقدامات سے متعلق عندیہ بھی دیا تھا جو فیس بک اس طرح کے واقعات کی فیس بک پر روک تھام کیلئے اٹھا رہا ہے۔ اپنی تقریر میں ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے واقعات کی فیس بک پر موجودگی کے خلاف ابھی ہمیں بہت سا کام کرنا ہے، ہمیں برابری کی سطح پر صارفین کو خوشگوار ماحول فراہم کرنا ہے ۔ واضح رہے کہ فیس بک انتظامیہ کی جانب سے اصلاح پسندوں کی ایک ٹیم بھی اس طرح کے مواد کے خلاف چوبیس گھنٹے کام کر رہی ہے جو فیس بک پر اس طرح کے مواد کی رپورٹ کے خلاف اقدامات کرتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…