منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

6ہزار 900 نئی سرکاری ملازمتیں،سمری منظور،بڑا اعلان کردیاگیا

datetime 5  اکتوبر‬‮  2017 |

کراچی (این این آئی)سندھ حکومت نے صوبے کے 3 ہزار غیر فعال سکولوں کو فعال کرنے کے لیے 6 ہزار 953 نئے اساتذہ بھرتی کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس حوالے سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق وزیر اعلی سندھ نے بھی سمری منظور کر لی ہے اور جلد ہی اساتذہ کی بھرتی کا عمل شروع کردیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق اس سلسلے میں سندھ حکومت کی جانب سے جلد ہی اشتہار بھی جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،

بھرتی کیے جانے والے نئے اساتذہ میں 6 ہزار جونیئر الیمنٹری سکول ٹیچر اور 953 ارلی چائلڈ سکول ٹیچر شامل ہیں۔ دوسری جانب محکمہ سکول ایجوکیشن کی جانب سے کلسٹر سکول پالیسی 2016 پر عملدرآمد کرتے ہوئے صوبے بھر میں 286 کلسٹر سکول بنانے کی بھی منظور ی دی گئی ہے یہ سکول کراچی، حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ، میرپور خاص اور شہید بے نظیرآباد میں قائم کیے جائیں گے۔واضح رہے کہ صوبے میں موجود سکولوں کی حالت زار درست کرنے کے لیے وزیر اعلی سندھ کی زیر صدارت گزشتہ روز ہونے والے اجلاس میں مراد علی شاہ نے صوبے میں تعلیمی ایمرجنسی کے باوجود غیر تسلی بخش صورتحال پر برہمی کااظہار کیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تعلیم اور دیگر افسران نے وزیر اعلی کو بریفنگ بھی دی۔ اجلاس میں وزیر اعلی نے مختلف سکولوں پر بجلی کے واجب الادا بلوں کی ادائیگی کے لیے 11 کروڑ روپے مختص کرنے کے بھی احکامات جاری کیے۔ اجلاس میں ایسے اساتذہ جو گھر بیٹھے تنخواہیں وصول کر رہے ہیں ان کے لیے متعلقہ ڈائریکٹرز سے تجاویز طلب کی گئیں جبکہ صوبے کے 6 اضلاع میں 62 کلسٹر سکول قائم کرنے سے متعلق سے بھی محکمہ تعلیم کے ڈائریکٹرز سے تجاویز مانگی گئی ہیں۔ اس حوالے سے 13 اکتوبر کو خصوصی اجلاس بھی طلب کیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…