منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

’’بیٹے کی قربانی دو، اسے دوبارہ زندہ کر دیا جائیگا‘‘ ماں نے ڈنڈے مار مار کر بیٹے کو قتل کر ڈالا، شیخوپورہ میں لرزہ خیز واقعہ، افسوسناک انکشافات

datetime 4  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) ضعیف الاعتقاد اور توہم پرست لوگ پوری دنیا میں پائے جاتے ہیں لیکن ان کی ہمارے ملک پاکستان میں بھی کمی نہیں ہے، ایسا ہی عقیدہ رکھنے والوں نے شیخوپورہ میں ایک نوجوان کو قتل کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق شیخوپورہ میں ایک جعلی عاملہ نے اپنے ہی بیٹے کو تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کر ڈالا، پولیس ذرائع کا کہناہے کہ فیروز والا میں ایک جادو ٹونہ کرنے والی خاتون تنویر فاطمہ نے بتایا کہ اس نے خواب میں ایک بزرگ کو دیکھا

جس نے اسے حکم دیتے ہوئے کہا کہ اپنے ایک بیٹے کی قربانی دے دو جسے دوبارہ زندہ کر دیا جائے گا۔ اس خاتون نے اپنے چھوٹے بیٹے سے مل کر اپنے بڑے بیٹے ذیشان حیدر کو رسیوں سے باندھ کر ڈنڈے سے تشدد کرکے ہلاک کردیا اور اس کے بعد اپنے ہی محلے دار طارق بٹ پر ڈکیتی اور قتل کا الزام بھی لگا دیا۔ اس افسوسناک واقعہ کی اطلاع جب فیروز والہ تھانہ کے ایس ایچ او کو ملی تو وہ پولیس اہلکاروں کے ہمراہ موقع پر پہنچ گئے، انہیں اس جعلی عاملہ تنویر فاطمہ پر شک ہوا تو دونوں ماں بیٹا کو گرفتار کر لیا، تفتیش کے دوران انہوں نے اپنا جرم قبول کر لیا۔ ایک نجی ٹی وی چینل نے جب ملزمہ سے اس واقعہ کی تفصیلات معلوم کیں تو اس نے کہا کہ وہ پانچ سال سے جادو ٹونہ کا کام کرتی ہے اور گزشتہ کئی راتوں سے اسے ایک بزرگ خواب میں آ رہے تھے اور اپنے کسی بیٹے کی قربانی کا حکم دے رہے تھے، ملزمہ نے کہا کہ گزشتہ روز جب وہ نیند سے بیدار ہوئی تو اس میں جنات آ گئے اور اس کا اثر ان کے چھوٹے بیٹے رضوان پر بھی ہوا۔ اسی دوران انہوں نے ذیشان حیدر کو تشدد کرکے قتل کر دیا۔ ملزم رضوان نے نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میری ماں تنویر فاطمہ پانچ سال پہلے چلہ کاٹنے کے دوران فوت ہو گئی تھی جسے وہ مختلف ہسپتالوں میں لے کر بھی گئے، ڈاکٹروں نے ان کی موت کی تصدیق کی مگر بزرگوں کی کرامت سے وہ سات گھنٹوں کے بعد دوبارہ زندہ ہو گئیں۔ اس کے بعد ان کے جسم سے خوشبو آنا شروع ہو گئی، اس طرح ان پر جنات حاضر ہونے لگے اور لوگوں کے مسائل حل کرنے لگے، ملزم رضوان نے کہا کہ ذیشان حیدر دوبارہ زندہ ہو جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…