دنیا تضادات کا مجموعہ ہے اس میں پہاڑوں کی ہزاروں میٹر اونچائیاں ہیں تو سمندروں کی ہزاروں میٹر گہرائیاں بھی۔ اس میں جنگ و جدل خون اور بربریت ہے تو امن کے پھول کھلاتے ننھے ہاتھ بھی ہیں کہیں قاعدے قانون کے شکنجے میں کسی ہوئی زندگی تو کہیں بے قاعدگیوں اور لاقانونیت کو طرز حیات قرار دیا جاتا ہے۔ کہیں جنگلوں میں تحفظ کا احساس تو کہیں بستے شہروں میں موت کاخوف اپنا پھن پھیلائے کھڑا ہے ایک ہی ہسپتال میں بھوک سے جڑی انتڑیاں لئے کوئی مریض زیر علاج ہے تو ساتھ والے بستر پر کوئی بسیار خور بے پناہ خوش خوراکی کے باعث طبی امداد لے رہا ہے ۔ یعنی اس دنیا میں حالات واقعات نظریات آسائشات ضروریات اور مشکلات کی جانب نظر کی جائے تو ہمیں کہیں حالات ایک دوسرے کی ضد دکھائی دیں گے تو کہیں نظریات میں زمین آسمان کا فرق ہوگا کہیں آسائشوں کی گود میں پڑے انسان تو کہیں غربت کے پالنے میں جھولا جھولتے اور بنیادی ضروریات کو ترستے بلکتے افراد ملیں گے۔ اس دنیا کی آبادی7 ارب سے تجاوزی کر چکی ہے نہ تو یہ سات ار ب انسان ایک رنگ نسل نقوش مذہب اور نظریات کے حامل ہیں نہ ہی ان کے حالات زندگی ایک سے ہیں ۔ دنیا میں3ارب انسانوں کو غربت نے گھیر رکھا ہے ان غرباء کی زندگیاں کس طرح کی ہیں اور انسانی تاریخ کے ترقی یافتہ ترین دور میں یہ افراد کن زمینی حقائق کے ساتھ جی رہے ہیں وہ کچھ اس طرح سے ہیں ۔ اس دنیا میں3ارب افراد غربت
مزیدپڑھیئے: کرکٹ کے دل جیت لئے
کاشکار جبکہ ان میں سے ڈیڑھ ارب افراد انتہائی غریب ہیں۔ دنیا میں:
ہر سال90لاکھ بچے5سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں ان میں سے60 لاکھ بچے غیر معیاری خوراک اور علاج کی عدم دستیابی کا شکار ہوتے ہیں۔
روزانہ1500 خواتین مناسب علاج نہ ہونے کے باعث زچگی کے عمل کے دوران موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں ۔ سالانہ اموات 5لاکھ40ہزار ہوتی ہیں۔
روزانہ10ہزار بچے ایک ماہ کی عمر پانے سے پہلے وفات پا جاتے ہیں۔
اکیسویں صدی میں ایک ارب سے زائد افراد تعلیم سے بے بہرہ ہیں نہ کچھ پڑھ سکتے ہیں نہ ہی اپنا نام لکھ سکتے ہیں۔
دنیا کے48 غریب ترین ممالک کی جی ڈی پی(سالانہ آمدن) دنیا کے تین امیر ترین افراد کی دولت سے کم ہے۔
دنیا کی86 فیصد آسائشیں اور ضروریات زندگی (اشیاء ضرورت)صرف20فیصد افراد کے تصرف میں ہیں۔
نامناسب خوراک غذائی قلت یا خوراک کی عدم دستیابی کے باعث پیدا ہونے والی بیماریوں سے ہر5سیکنڈ میں ایک بچے کی ہلاکت ہوتی ہے اور روزانہ22ہزار بچے موت کاشکارہو جاتے ہیں۔
سالانہ31لاکھ بچے جن کو مناسب خوراک اور طبی سہولیات دے کر بچایا جا سکتا ہے وہ بھی لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔
افریقہ میں مرنے والا ہر تیسرا بچہ بھوک کے باعث مرتا ہے۔
ترقی پذیر ممالک میں1ارب40 کروڑ لوگوں کی روزانہ کی آمدن125روپے سے بھی کم ہے۔
دنیامیں1ارب70کروڑ افراد کو پینے کا صاف پانی تک نہیں ملتا اور یہ افراد گندا پانی پیتے ہیں ان میں زیادہ تر ایسے ہیں جو پینے کا پانی ایسے جوہڑوں یا نالو ں سے حاصل کرتے ہیں جن میں جانور بھی ان کے ہم پیالہ ہیں۔
دو ارب 30کروڑ افراد ہر سال غیر معیاری پانی پینے کے باعث بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں۔
دنیا کے12فیصد افراد اس دنیا کے صاف پانی کا85 فیصد حصہ استعمال کرتے ہیں اور ان12فیصد افراد میں ایک فیصد افراد کا تعلق بھی ترقی پذیر ممالک سے نہیں۔
دنیا میں 1ارب80کروڑ افراد کو اپنی تمام ضروریات پوری کرنے کیلئے20 لیٹر پانی روزانہ حاصل ہے جبکہ انگلینڈ میں ہر فرد کو150لیٹر جبکہ امریکہ میں سب سے زیادہ یعنی600 لیٹر پانی فی کس کو روزانہ کی بنیاد پر حاصل ہے۔
دنیا میں کل بچوں کی تعداد2ارب20کروڑ سے زائد ہے جن میں سے آدھے بچوں یعنی ایک ارب سے زائد بچوں کو مناسب اور معیاری خوراک صاف پانی طبی سہولیات اور مناسب رہائش میسر نہیں۔
ہر سال14لاکھ بچے گندے پانی کے باعث پیدا ہونے والی بیماریوں کا شکار ہو کر ہلاک ہو جاتے ہیں۔
ترقی پذیر ممالک کی60 فیصد آبادی گندے پانی اور ناقص صفائی( گندگی) کے باعث بیماریوں کا شکارہوتی ہے۔
دنیا کی 50 فیصد آبادی شہروں اور قصبوں میں رہائش پذیر ہے جبکہ آج بھی ایک ارب افراد کچی بستیوں کے رہائشی ہیں۔

دنیا میں2ارب50کروڑ افرادآج بھی کوئلے لکڑی اور جانوروں کے فضلے یعنی گوبر پر کھانا بناتے ہیں۔
دنیا میں ایک ارب60کروڑ افراد کو بجلی اور توانائی کے دیگر وسائل میسر نہیں۔
*دنیا کے ایک تہائی غریب افراد ہندوستان میں رہتے ہیں۔
پوری دنیا میں اسلحے کی تجارت پر جتنی رقم خرچ کی جاتی ہے اس رقم کا صرف ایک فیصد بھی خرچ کیا جائے تو دنیا میں کوئی بچہ تعلیم سے محروم نہ رہے۔
ترقی پذیر ممالک کے35 فیصد بچے مناسب خوراک اور طبی سہولیات نہ ہونے کے باعث ترقی یافتہ ممالک کے بچوں سے وزن میں کم ہیں۔
دو ارب40کروڑ افراد ساری زندگی بنیادی ضروریات کی خاطر تگ و دو میں گزارتے ہیں۔
ر سال20 لاکھ بچے اسہال دست ہیضے اور نمونیا کے باعث ہلاک ہو جاتے ہیں اور وجہ وہی غربت کہ ان کوغربت کے باعث مناسب علاج نہیں ملتا۔
اب کہانی کا دوسرا رخ یعنی اس دنیا جس میں اربوں انسان غربت تنگدستی اور مشکلات کا شکار ہیں اسی دنیا میں اس سال ارب پتی کلب میں مزید32 افراد شامل ہوں گے یہ ارب پتی امریکی ڈالروں میں1ارب ڈالر سے زائد اثاثوں بینک بیلنس یا کاروبار کی ملکیت کی بنا پر داخل ہوں گے۔ ان نئے ارب پتیوں کی شمولیت سے دنیا میں ارب پتیوں کی کل تعداد2ہزار ایک سو ستر ہوجائے گی۔
اس صورتحال میں دلچسپ بات یہ ہے کہ اب ایشیاء میں ارب پتیوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ایشیاء کے ارب پتی دنیا کی کل دولت کے 13 فیصد حصے کے مالک ہیں اور مزید ایشیائی افراد اس دوڑ میں شامل ہونے کو تیار ہیں اور اگراسی رفتار سے ایشیائی افراد ارب پتی کلب کے ممبر بنتے رہے تو آئندہ 5سال میں ایشیاء اور شمالی امریکہ کے ارب پتیوں کی تعداد برابر ہو جائے گی۔
دنیا میں دولت کی تقسیم کے حوالے سے چند دلچسپ حقائق اس طرح سے ہیں:
امریکہ کی کل قومی دولت جو57 ٹریلین ڈالر ہے اس میں امیر ترین افراد جو امریکی کل آبادی کا ایک فیصد ہیں یہ امریکہ کی کل قومی دولت میں35فیصد کے مالک ہیں جبکہ امریکہ کے دس فیصد امیر ترین افراد کل قومی دولت کے80فیصد کے مالک ہیں۔ جبکہ نیچے سے80فیصد امریکی قومی دولت میں صرف7فیصد کے مالک ہیں۔
سو ا ارب سے زائد آبادی کے حامل ملک بھارت میں80کروڑ سے زائد افراد خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور آبادی کے طرز زندگی سہولیات اور بنیادی ضروریات کے حوالے سے بھارت کا شمار دنیا کے غریب ترین ممالک میں ہوتا ہے اسی بھارت کے تین شہری مکیش امبانی لکشمی متل اور اعظم پریم جی کا شمار دنیا کے امیر ترین افراد میں ہوتاہے۔
اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ امیر شخص کا نام کارلوس سلم ہے اس کا تعلق میکسیکو سے اور یہ ٹیلی کام کے شعبے سے وابستہ ہے اس کی کل دولت73ارب ڈالر ہے۔
مائیکروسافٹ کمپنی کا مالک بل گیٹس 67ارب ڈالر کے ساتھ دنیا کا دوسرا امیر ترین شخص ہے ان کا تعلق امریکہ سے ہے۔
تیسرے نمبرپرسپین سے تعلق رکھنے والے امینشیو آرٹیگا ہیں جن کی کل دولت57 ارب ڈالر ہے۔
چوتھے نمبرپر بھی وارن بوفے نامی امریکی براجمان ہےان کی کل دولت53.5ارب ڈالر ہے۔
لیری ایلیسن 43ارب ڈالر کے ساتھ دنیا کے 5ویں امیر ترین شخص ہیں اور ان کا تعلق بھی امریکہ سے ہے۔
منی لانڈرنگ کا ذکر ہم اکثر سنتے ہیں اور اس منی لانڈرنگ کو اپنے حکمرانوں اور اکابرین کے ساتھ نتھی کردیتے ہیں دنیا کی60 بڑی کمپنیاں ٹیکس سے بچنے کیلئے ہر سال1300 ارب ڈالر بیرون ملک منتقل کر دیتی ہیں اور دنیا کے امیر ترین افراد نے32 ہزار ارب ڈالر بیرون ملک بینکوں میں محفوظ کر رکھے ہیں جبکہ تیسری دنیا یعنی ترقی پذیر ممالک کے بیرونی قرضوں یعنی آئی ایم ایف ورلڈ بینک اوردیگر مالیاتی اداروں سے لئے گئے قرضے4000ارب ڈالر ہیں یعنی دنیا کے امیر ترین افراد نے ترقی پذیر ممالک کے کل بیرونی قرضوں سے8گنا زیادہ رقم بیرون ممالک بینکوں میں چھپا رکھی ہے۔
اب کچھ حقائق ترقی پذیر یاغریب ممالک کے متعلق:
ان ممالک کے عوام بنیادی ضرورتوں سے محروم ہیں تو اس کی بنیادی وجوہات میں بیرونی قرضے اور کرپشن کی رقم کی بیرون ملک ترسیل ہے۔
تیسری دنیا کے ممالک ہر سال600ارب ڈالر بیرونی قرضوں میں سود کی شکل میں ادا کرتے ہیں۔
آئی ایم ایف ورلڈ بینک اور دوسرے مالیاتی ادارے غریب ممالک کو قرض دینے کے بعد جن شرائط پر عمل کرواتے ہیں ان شرائط کی بناء پر غریب ممالک کو ہر سال500ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔
ہر سال قریباً2000 ارب ڈالر غریب ممالک سے امیر ممالک میں منتقل ہوتے ہیں۔
ملٹی نیشنل کمپنیاں بھی اپنی مصنوعات تیسری دنیا کے ممالک میں فروخت کر کے900 ارب ڈالر کا منافع کما کر امیر ممالک میں منتقل کرتی ہیں۔
پاکستان کا شمار بھی ترقی پذیر ممالک میں ہوتا ہے ہماری حکومت اور معاشی ماہرین بھی آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے درپر حاضری دینے والوں میں شامل ہیں ایک طرف موجودہ حکومت نے آئی ایم ایف سے تین سالہ بیل آؤٹ پیکج کی مد میں6ارب ڈالر قرض کا معاہدہ کیا ہے جبکہ2اکتوبر2013ء کو گورنر سٹیٹ بینک نے انتہائی پریشان کن انکشاف کیا ٗ ان کا کہنا تھا کہ ’’پاکستان سے روزانہ اڑھائی کروڑ ڈالر بیرون ملک سمگل کئے جا رہے ہیں‘‘۔
اس رقم کو سالانہ کی بنیاد پر اکٹھا کیا جائے تو 9ارب ڈالر بنتے ہیں یعنی آئی ایم ایف کے پیکج سے ڈیڑھ گنا زیادہ ایک طرف یہ ملک اپنے حالات کی بناء پر بھیک مانگنے اور قرض اتارنے کیلئے قرض لینے پر مجبور ہے تو دوسری طرف اسی ملک سے 9ارب ڈالر سالانہ باہر منتقل کئے جانے کی خبریں ہیں ۔ یہ دنیا واقعی تضادات کا مجموعہ ہے۔



















































