پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے کیمپ پر حملہ

datetime 3  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت سرینگر میں ایئرپورٹ کے پاس بی ایس ایف کیمپ پر ایک حملہ ہوا ہے جس میں تین فوجی زخمی جبکہ دو حملہ آوروں کے مارے جانےکی اطلاعات ہیں۔عینی شاہدین نے بتایا کہ تین حملہ آوروں نے انتہائی سکیورٹی والے بی ایس ایف کے کیمپ پر منگل کی صبح سویرے حملہ کیا ہے۔سرینگر میں اعلیٰ پولیس اہلکاروں کا کہنا ہے انھوں نے دو حملہ آوروں کو مار دیا ہے

جبکہ تصادم ابھی جاری ہے۔پولیس کے ترجمان منوج کمار نے کہا کہ تین فوجی اس حملے میں زخمی ہوئے ہیں۔ انھوں بتایا کہ ہوائی اڈے پر مختصر وقت تک پروازیں منسوخ رہنے کے بعد پروازیں از سر نو بحال کر دی گئی ہیں۔آپریشن میں شامل ایک پولیس افسر نے  بتایا شدت پسندوں نے کیمپ پر حملہ کیا لیکن وہ ایک انتظامی عمارت میں پھنس گئے ہیں۔ کم از کم ایک شدت پسند ابھی بھی افسروں کے میس میں ہے۔’اس سے قبل سرینگر کے پولیس آئی جی منیر خان نے  بتایاحملہ صبح تقریبا چار بجے ہوا۔ بارڈر سکیورٹی فورسز کی 182 بٹالین کے کیمپ میں تین شدت پسند داخل ہو گئے تھے۔’انھوں نے بی ایس ایف کے دو جوانوں کے اس حملے میں زخمی ہونے کی تصدیق کی تھی۔انڈیا کی خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق پولیس نے اس کو ‘خودکش حملہ’ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہاں سے ایک لاش ملی ہے جو کہ حملہ آور کی ہو سکتی ہے۔آئی جی منیر خان نے بتایا کہ ابھی تصادم جاری ہے۔ حملے کے بعد سرینگر ہوائی اڈے کو جانے والی تمام سڑکیں سیل کر دی گئی ہیں جبکہ کلیئرینس ملنے تک تمام پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔اس سے قبل جنوری میں جموں کے سرحدی قصبہ اکھنور میں واقع جنرل ریزرو انجنئرنگ فورس یا گریف کے کیمپ پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کی تھی

جس میں کم از کم تین فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔جبکہ جون میں قاضی گنڈ علاقے میں مسلح شدت پسندوں نے انڈین فوج کے ایک کانوائے پر گھات لگا کر حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں چھہ فوجی شدید زخمی ہو گئے اور ان میں سے ایک کی بعد میں موت ہو گئی تھی۔انڈین فوج اور مقامی پولیس حکام کا کہنا ہے کہ وادی میں جاری طویل آپریشن میں اب 180 شدت پسند مارے جا چکے ہیں جن میں کئی اعلی کمانڈر بھی شامل ہیں۔خیال رہے کہ ایک مقبول شدت پسند لیڈر برہان وانی کی گذشتہ سال جولائی میں ہلاکت کے بعد سے کشمیر میں شدت پسندی کی نئی لہر دیکھی گئی ہے۔ اگر چہ کمشیر میں ملیٹینسی بظاہر کم ہوتی نظر آ رہی ہے لیکن دارالحکومت کے انتہائی سکیورٹی والے علاقے میں ‘فدائی حملے’ سے سکیورٹی ایجنسیوں میں خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…